بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 15 از 109
حدیث نمبر: 12221 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَأَخَذَهُ فَشَقَّ صَدْرَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَرَمَى بِهَا، وَقَالَ: هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ، قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ انْتَقَعَ لَوْنُهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیئے، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 162
الحكم: إسناده صحيح ، م: 162
حدیث نمبر: 12222 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ، فَأَنْزَلَتْ، فَلْتَغْتَسِلْ"، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ، أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 310
الحكم: إسناده صحيح ، م: 310
حدیث نمبر: 12223 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟، قُلْتُ: وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ، ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ، وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيها الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، أَوْ جَلَسَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا؟"، قَالُوا: مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ!، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
واقد بن عمرو بن سعد رحمہ اللہ (جو بڑے خوبصورت اور ڈیل ڈول والے آدمی تھے) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ میں نے بتایا کہ میرا نام واقد ہے اور میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم سعد کے بہت ہی مشابہہ ہو، پھر ان پر گریہ طاری ہوگیا اور وہ کافی دیر تک روتے رہے، پھر کہنے لگے کہ سعد پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ لوگوں میں بڑے عظیم اور طویل القامت تھے۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اکید رومہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا: اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا " بھجوایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پہن کر منبر پر تشریف لے گئے، کھڑے رہے یا بیٹھ گئے، لیکن کوئی بات نہیں کہی، تھوڑی دیر بعد نیچے اترے تو لوگ اس جبے کو ہاتھ لگاتے اور دیکھتے جاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم نے قبل ازیں اس سے بہتر لباس نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جو دیکھ رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12223]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن، خ: 2616، م: 2469
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن، خ: 2616، م: 2469
حدیث نمبر: 12224 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً، فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً، ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى، فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً، قَالَ:" هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں " من " کا ایک مٹکا بھجوایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر ایک جماعت پر سے گذرتے ہوئے ان میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دینا شروع کردیا، ان میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی ایک حصہ دے دیا، پھر ان کے پاس کچھ دیر بعد واپس آکر ایک اور حصہ دیا، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ تو آپ مجھے دے چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ عبداللہ کی بچیوں (تمہاری بہنوں) کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12224]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12225 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ ثَمَانٍ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12225]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد جيد، وانظر: 12113
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد جيد، وانظر: 12113
حدیث نمبر: 12226 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورة الفتح آية 1 - 2، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَنِيئًا لَكَ مَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، فَمَا لَنَا؟ فَنَزَلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5".
حدیث نمبر: 12227 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ،" هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ، مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ، فَأُخِذُوا، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24، قَالَ: يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ".
حدیث نمبر: 12228 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فَلَا أَدْرِي، أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ؟ وَهُوَ يَقُولُ:" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآن کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، عن انس عن أبى قال: كنا نري هذا من القرآن حتي نزلت: ألهاكم التكاثر
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، عن انس عن أبى قال: كنا نري هذا من القرآن حتي نزلت: ألهاكم التكاثر
حدیث نمبر: 12229 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَتْ نِعَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُمَا قِبَالَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5857
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5857
حدیث نمبر: 12230 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ،" فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ"، فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چنانچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2920 ، م: 2076
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2920 ، م: 2076
حدیث نمبر: 12231 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12232 مسند احمد
يَزِيدُ ، صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12232]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، م: 258 وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة ابن موسي الدقيقي، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح ، م: 258 وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة ابن موسي الدقيقي، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12233 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ:" إِنْ تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي مَاشِيًا، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12233]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7536
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7536
حدیث نمبر: 12234 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ، وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ، فَيَقُولُونَ: مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟، فَيَقُولُ: هَادٍ يَهْدِينِي، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ، بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ، إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالُوا: ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ، فَدَخَلَا، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ، وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ، وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ، وَلَا أَقْبَحَ مِنَ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر رہے ہیں، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن وامان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوجائیے، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3911
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3911
حدیث نمبر: 12235 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ؟" فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ؟" فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكٌ: أَنَا آخُذُ بِحَقِّهِ، فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک تلوار پکڑی اور فرمایا یہ تلوار کون لے گا؟ کچھ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے اسے کون لے گا؟ یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ " جن کا نام سماک تھا " کہنے لگے کہ میں اس کا حق ادا کرنے کے لئے لیتا ہوں، چنانچہ انہوں نے اسے تھام لیا اور مشرکین کی کھوپڑیاں اڑانے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2470
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2470
حدیث نمبر: 12236 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:" مَنْ قَتَلَ رَجُلًا فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يومئذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا ساز و سامان حاصل کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12237 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَبَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، الْمَعْنَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا، وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ، لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2808
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2808
حدیث نمبر: 12238 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ:" هَذَا ابْنُ آدَمَ، ثُمَّ رَفَعَهَا فَوَضَعَهَا خَلْفَ ذَلِكَ قَلِيلًا، وَقَالَ: هَذَا أَجَلُهُ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ أَمَامَهُ، قَالَ: وَثَمَّ أَمَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا کہ یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے فرمایا کہ اس کی امیدیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وفي البخاري : 6418 بلفظ: خط النبى صلى الله عليه و آله وسلم خطوطا، فقال: «هذا الأمل، وهذا أجله، فبينما هو كذلك اذا جاءه الخط الأقرب»
الحكم: إسناده صحيح، وفي البخاري : 6418 بلفظ: خط النبى صلى الله عليه وسلم خطوطا، فقال: «هذا الأمل، وهذا أجله، فبينما هو كذلك اذا جاءه الخط الأقرب»
حدیث نمبر: 12239 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاهِرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ، وَبَاطِنَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب دعاء کرتے تو ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ چہرہ کی جانب کرلیتے اور نچلا حصہ زمین کی طرف۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12240 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، فَجَعَلَهَا عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ حَتَّى تَهَيَّأَ وَتَعْتَدَّ فِيمَا يَعْلَمُ حَمَّادٌ، فَقَالَ النَّاسُ: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ تَسَرَّاهَا؟ فَلَمَّا حَمَلَهَا سَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ، فَعَرَفَ النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ المدينة أَوْضَعَ النَّاسُ، وَأَوْضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ، فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ، فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَّتْ مَعَهُ، وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرْنَ، فَقُلْنَ: أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ، وَفَعَلَ بِهَا، وَفَعَلَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے؟ لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین پر گرگئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی گرگئیں، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں وہ کہنے لگی کہ اللہ اس یہودیہ کو دور کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 1428
الحكم: إسناده صحيح ، م: 1428