يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فَلَا أَدْرِي، أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ؟ وَهُوَ يَقُولُ:" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآن کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، عن انس عن أبى قال: كنا نري هذا من القرآن حتي نزلت: ألهاكم التكاثر
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، عن انس عن أبى قال: كنا نري هذا من القرآن حتي نزلت: ألهاكم التكاثر