بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 10 از 109
حدیث نمبر: 12121 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَرِبَ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَنَاوَلَهُ الأعرابي، وَقَالَ:" الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5619 ، م: 2029
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5619 ، م: 2029
حدیث نمبر: 12122 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَرُمَ عَلَى النَّارِ، وَحَرُمَتْ النَّارُ عَلَيْهِ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَحُبُّ اللَّهِ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نوفل بن مسعود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے، جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12122]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وقد سلف الحديث بإسناد صحيح برقم : 12002 مع خلاف فى لفظه، فانظره
الحكم: إسناده حسن، وقد سلف الحديث بإسناد صحيح برقم : 12002 مع خلاف فى لفظه، فانظره
حدیث نمبر: 12123 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَقَالَ:" مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟"، قَالُوا: مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12124 مسند احمد
يَحْيَى ، عُقْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَسٌ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: جَاءَ أَنَسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ" مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بشیر بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو دور نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12124]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 724، وهذا إسناد متحمل للتحسين
الحكم: حديث صحيح، خ: 724، وهذا إسناد متحمل للتحسين
حدیث نمبر: 12125 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2851 ، م: 1874
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2851 ، م: 1874
حدیث نمبر: 12126 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنادیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 693
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 693
حدیث نمبر: 12127 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا لِنَفْسِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1865 ، م: 1642
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1865 ، م: 1642
حدیث نمبر: 12128 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ، أَوْ كَادَ يَنْعَسُ بَعْضُ الْقَوْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ لوگ سونے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 643 ، م: 376
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 643 ، م: 376
حدیث نمبر: 12129 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟، فَقَالَ:" مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12129]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1141
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1141
حدیث نمبر: 12130 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ، قَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
حدیث نمبر: 12131 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:" مَنْ قَتَلَ كَافِرًا، فَلَهُ سَلَبُهُ"، قَالَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12132 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرُّوخَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ، فَنَهَوْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ، وَأَمَرَ أَنْ يُصَبَّ عَلَيْهِ، أَوْ أُهَرِيقَ عَلَيْهِ الْمَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، لوگوں نے اسے روکا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 221 ، م: 284
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 221 ، م: 284
حدیث نمبر: 12133 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَنَفَّسُ فِي إِنَائِهِ ثَلَاثًا"، وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12133]
حکم دارالسلام
إسناد صحيح ، خ: 5631، م: 2028، قال السندي: قوله: يتنفس فى إنائه، أى فى حال الشرب مع إبانة الإناء من الفم، والذي جاء النهي عنه هو أن يكون الإناء فى الفم، وانظر «فتح الباري» 93/10
الحكم: إسناد صحيح ، خ: 5631، م: 2028، قال السندي: قوله: يتنفس فى إنائه، أى فى حال الشرب مع إبانة الإناء من الفم، والذي جاء النهي عنه هو أن يكون الإناء فى الفم، وانظر «فتح الباري» 93/10
حدیث نمبر: 12134 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِي هَذَا؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، قَالَ:" مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، قَالَ:" هُمَا لَكَ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ ذِي دَمٍ مُوجِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ وہ ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں ایک درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعلان دہرایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا کہ میں دو درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں، پھر فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر جو خاک نشین کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12134]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي، وللقطعة الأخيرة منه وهى قوله: "ان المسألة ....." شواهد تصحح بها.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي، وللقطعة الأخيرة منه وهى قوله: "ان المسألة ....." شواهد تصحح بها.
حدیث نمبر: 12135 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 399
الحكم: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12136 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12137 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ لِأَبِي طَلْحَةَ ابْنٌ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ، قَالَ: فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابوعمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6129
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6129
حدیث نمبر: 12138 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ؟، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ بَيْعِ ثَمَرَةِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ"، قِيلَ لِأَنَسٍ: مَا تَزْهُو؟، قَالَ: تَحْمَرُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے تھے کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پھلوں کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12138]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1555
الحكم: إسناده صحيح، م: 1555
حدیث نمبر: 12139 مسند احمد
يَحْيَى ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ"، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ أَرْبَعِينَ: فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ ودَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: مَا تَرَوْنَ؟، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ، فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں، لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6773 ، م: 1706
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6773 ، م: 1706
حدیث نمبر: 12140 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ، مَرَّتَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، قَالَ: فَنَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ" يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس خیبر میں آیا اور دو مرتبہ کہا کہ گدھوں کا گوشت کھایا جارہا ہے، پھر آیا تو کہنے لگا کہ گدھے ختم ہوگئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منادی کرادی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12140]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940