يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِي هَذَا؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، قَالَ:" مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، قَالَ:" هُمَا لَكَ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ ذِي دَمٍ مُوجِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ وہ ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں ایک درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعلان دہرایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا کہ میں دو درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں، پھر فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر جو خاک نشین کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12134]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي، وللقطعة الأخيرة منه وهى قوله: "ان المسألة ....." شواهد تصحح بها.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي، وللقطعة الأخيرة منه وهى قوله: "ان المسألة ....." شواهد تصحح بها.