يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَرُمَ عَلَى النَّارِ، وَحَرُمَتْ النَّارُ عَلَيْهِ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَحُبُّ اللَّهِ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نوفل بن مسعود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے، جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12122]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وقد سلف الحديث بإسناد صحيح برقم : 12002 مع خلاف فى لفظه، فانظره
الحكم: إسناده حسن، وقد سلف الحديث بإسناد صحيح برقم : 12002 مع خلاف فى لفظه، فانظره