أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ، قَالَ: أَتَاهُ شَيْخٌ أَوْ رَجُلٌ، قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7153، م: 2639، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7153، م: 2639، وهذا إسناد حسن.