بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 61 از 109
حدیث نمبر: 13142 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَقَةٌ فِيهَا دُبَّاءٌ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُهُ يَأْكُلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جو شوربہ تھا اس میں کدو تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تلاش کر کے کھا رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13142]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2041.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2041.
حدیث نمبر: 13143 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَأَى يعني مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا يَسِيرًا، وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحْسِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5894، م: 2341، وانظر: 12635.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5894، م: 2341، وانظر: 12635.
حدیث نمبر: 13144 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا أَنْجَشَةُ، كَذَاكَ سَيْرُكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجثہ! آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13144]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12041.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12041.
حدیث نمبر: 13145 مسند احمد
قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ قَتَادَةُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كفر يُهَجَّاهُ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٍّ أَوْ كَاتِبٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا دجال مدینہ منورہ میں داخل ہوسکے گا؟ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر للشطر الأول: 12244، وللشطر الثاني: 12004.
الحكم: إسناده صحيح، انظر للشطر الأول: 12244، وللشطر الثاني: 12004.
حدیث نمبر: 13146 مسند احمد
رَوْحٌ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 13 م: 45
الحكم: إسناده صحيح، خ: 13 م: 45
حدیث نمبر: 13147 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ:" أَبُوكَ فُلَانٌ" فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 إِلَى تَمَامِ الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے، اس پر یہ آیت مکمل نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان! ایسی چیزوں کے متعلق سوال مت کیا کرو جو اگر تمہارے سامنے ظاہر ہوجائیں تو تمہیں بری لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7295، م: 2359.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7295، م: 2359.
حدیث نمبر: 13148 مسند احمد
رَوْحٌ ، سعيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سعيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ، أَوْ دِيبَاجٍ، شَكَّ فِيهِ سَعِيدٌ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، فَلَبِسَهَا، فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2616 م:2469
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2616 م:2469
حدیث نمبر: 13149 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنْبَأَهُمْ، أَنّ رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كفر، أَيْ كَافِرٌ يَقْرَؤُهَا الْمُؤْمِنُ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933.
حدیث نمبر: 13150 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَزَ صَلَاةً، وَلَا أَتَمَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو نماز مکمل اور مختصر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 706، م: 469.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469.
حدیث نمبر: 13151 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَحَتَّى يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْهُ، وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے سب سے زیادہ محبوب نہ ہوں اور انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12765، و 12814.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12765، و 12814.
حدیث نمبر: 13152 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورًا ، طَلْقَ بْنَ حَبِيبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ حَبِيبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13152]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13153 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا عَلَا جَبَلَ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب جبل بیداء پر چڑھے تو تلبیہ پڑھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13154 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3637، م: 2802.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3637، م: 2802.
حدیث نمبر: 13155 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3251
الحكم: إسناده صحيح، خ:3251
حدیث نمبر: 13156 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، قَالَ: فَأَهْوَى الْمَلَكُ بِيَدِهِ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ مِسْكًا أَذْفَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4964.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4964.
حدیث نمبر: 13157 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ، قَالَ: أَتَاهُ شَيْخٌ أَوْ رَجُلٌ، قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7153، م: 2639، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7153، م: 2639، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13158 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیس دن تک نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13158]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه، وهذا الحديث من غرائب أبى بكر بن عياش، فالمحفوظ عن أنس من غير ما طريق عنه فى قنوت النبى أنه كان شهر، لكن تابعه فى أن قنوته كان أقل من شهر عبيدة بن حميد فيما يأتي برقم: 13462، وعبيدة لا بأس به، فلعل الوهم ممن فوقهما، والله تعالي أعلم، وانظر: 12064
الحكم: إسناده حسن كسابقه، وهذا الحديث من غرائب أبى بكر بن عياش، فالمحفوظ عن أنس من غير ما طريق عنه فى قنوت النبى أنه كان شهر، لكن تابعه فى أن قنوته كان أقل من شهر عبيدة بن حميد فيما يأتي برقم: 13462، وعبيدة
حدیث نمبر: 13159 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَرَخَ بِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لَبَّى بِهِمَا جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1251.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1251.
حدیث نمبر: 13160 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ، وَلَيْسَ لِي مَالٌ أَتَجَهَّزُ بِهِ، فَقَالَ:" اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ وَمَرِضَ، فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ: ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ" فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا فُلَانَةُ، ادْفَعِي إِلَيْهِ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ، وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّكِ وَاللَّهِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْهُ شَيْئًا، لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَكِ فِيهِ"، قَالَ عَفَّانُ: إِنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار نوجوان نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں لیکن اتنے پیسے نہیں کہ اس کے لئے سامانِ سفر مہیا کرسکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ کہ انہوں نے تیاری کی تھی لیکن وہ بیمار ہوگئے، ان سے جا کر کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم نے جو سامانِ سفر تیار کیا تھا، وہ مجھے دے دو، اس انصاری نے جا کر متعلقہ صحابی کو پیغام پہنچا دیا، انہوں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم نے میرے لئے جو سامانِ سفر تیار کیا تھا، وہ سب انہیں دے دو اور کچھ بھی نہ روکنا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی روکا تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1894.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1894.
حدیث نمبر: 13161 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں ایک کمان رکھنے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، خ: 2792، م: 1880.
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، خ: 2792، م: 1880.