بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 4 از 109
حدیث نمبر: 12001 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 605 ، م: 378
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 605 ، م: 378
حدیث نمبر: 12002 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُوقَدَ لَهُ نَارٌ فَيُقْذَفَ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 16 ، م: 43
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 16 ، م: 43
حدیث نمبر: 12003 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ، فَيُقْتَلَ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ" أَوْ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2817 ، م: 1877
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2817 ، م: 1877
حدیث نمبر: 12004 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ , مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7131 ، م: 2933
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7131 ، م: 2933
حدیث نمبر: 12005 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي حُجْرَتِهِ"، فَجَاءَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَعَادَ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ!، قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ، وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز مختصر کر کے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی دفعہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کردیتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1104
الحكم: إسناده صحيح، م: 1104
حدیث نمبر: 12006 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12007 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ المدينةِ، لبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ مَتَى دُفِنَ هَذَا؟، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُفِنَ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12008 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ الْمَاءُ، فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرئیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4964
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4964
حدیث نمبر: 12009 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا، إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟!، قَالَ:" وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا، وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں! مدینہ میں ہونے کے باوجود کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2838, 2839, 4423
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2838, 2839, 4423
حدیث نمبر: 12010 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبِقَتْ الْعَضْبَاءُ؟!، فَقَالَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6501, 2872, 2871
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6501, 2872, 2871
حدیث نمبر: 12011 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَتَرَاصُّوا، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 725، م: 434
حدیث نمبر: 12012 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ؟، فَقَالَ:" مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1141 ، م: 1158
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1141 ، م: 1158
حدیث نمبر: 12013 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ؟ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟، قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ، لَا صَلَاةٍ، وَلَا صِيَامٍ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ مَا فَرِحُوا بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12014 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ، وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ازواج مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھیں اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12015 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہے تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6351 ، م: 2680
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6351 ، م: 2680
حدیث نمبر: 12016 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لا يُكْثِرُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مَرَضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں تو کچھ زیادہ نفلی روزے نہ رکھتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے بعد وہ سوائے سفر یا بیماری کے کسی حال میں روزہ نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وفي البخاري: 2828: (كان أبو طلحه لا يصوم على عهد النبى صلى الله عليه و آله وسلم من اجل الغزو، فلما قبض النبى صلى الله عليه و آله وسلم لم أره مفطرا الا يوم فطر أو أضحي)
الحكم: إسناده صحيح، وفي البخاري: 2828: (كان أبو طلحه لا يصوم على عهد النبى ﷺ من اجل الغزو، فلما قبض النبى ﷺ لم أره مفطرا الا يوم فطر أو أضحي)
حدیث نمبر: 12017 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ"، قَالَ عَبدُ الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنَ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مقیم ہوئے تو ماہ رمضان کے عشرہ اخیر کا اعتکاف کرلیتے اور مسافر ہوتے تو اگلے سال بیس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12018 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّهُ الْقَوْمَ، خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى، وَتَقُولُ: ابْنِي ابْنِي، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ، قَالَ: فَخَفَّضَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَلَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھالیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خاموش کروا دیا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12018]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12019 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟، فَقَالَ: قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَحَطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ:" فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ"، فَاسْتَسْقَى، وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا يُرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَة، فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ، وَاحْتُبِسَتْ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلَا عَلَيْنَا، فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب دعاء سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے اردگرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1013 ، م: 897
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1013 ، م: 897
حدیث نمبر: 12020 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَادِي عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا!، قَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح