ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ؟ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟، قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ، لَا صَلَاةٍ، وَلَا صِيَامٍ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ مَا فَرِحُوا بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639