بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 63 از 109
حدیث نمبر: 13182 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 415، م: 552.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552.
حدیث نمبر: 13183 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، وَنَقَشَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوالی، جس کا نگینہ سیاہ تھا اور اس پر یہ عبارت نقش تھی " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2094
الحكم: إسناده صحيح، م: 2094
حدیث نمبر: 13184 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيَغْتَسِلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 264.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 264.
حدیث نمبر: 13185 مسند احمد
مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ؟ قَالَ: نَعَمْ، من عمر رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قنوت نازلہ پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پڑھی ہے، رکوع کے بعد۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 264
الحكم: إسناده صحيح، خ: 264
حدیث نمبر: 13186 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690.
حدیث نمبر: 13187 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَمِعَ أَنَسًا ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: إِنَّمَا ذَاكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، قَالَ: قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! قَالَ: قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من حدیث ثابت، خ: 1031، م: 896 وعلی بن زید بن جدعان ضعیف
الحكم: إسناده صحيح من حدیث ثابت، خ: 1031، م: 896 وعلی بن زید بن جدعان ضعیف
حدیث نمبر: 13188 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثَوْبٍ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَمَسُّونَهُ وَيَنْظُرُونَ، فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ أَوْ مِنْدِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنْ هَذَا، أَوْ" أَلْيَنُ مِنْ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر کہیں سے آیا لوگ اسے چھونے اور دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس پر تعجب کر رہے ہو، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2469، م: 13148
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2469، م: 13148
حدیث نمبر: 13189 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، شُعْبَةُ ، حَمَّادٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، وَعَتَّابٍ ، أنسا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، وَعَتَّابٍ مَوْلَى ابن هرمز، ورابع أيضا، سمعوا أنسا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، قال عبد الله: قال أَبي: كَذَا قَالَ لَنَا، أَخْطَأَ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13189]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 108 م: فی مقدمۃ:2، حماد و عتاب مولی ھرمز کلاھما صدوق حسن الحدیث
الحكم: حديث صحيح، خ: 108 م: فی مقدمۃ:2، حماد و عتاب مولی ھرمز کلاھما صدوق حسن الحدیث
حدیث نمبر: 13190 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، سَمِعَ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359
حدیث نمبر: 13191 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ:" اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَهْ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6413، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6413، م: 1805
حدیث نمبر: 13192 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان " جو وہ میرے ساتھ کرتا ہے " کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13193 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ:" لَا، إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیکم " کہا، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف وعلیکم کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6926
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6926
حدیث نمبر: 13194 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، وَأَعْرَابِيٌّ يَسْأَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَعْضِ حُجَرِهِ، فَجَذَبَهُ جَذْبَةً حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ، وَحَتَّى تَغَيَّبَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِنْ تَغْيِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ لَهُ بِشَيْءٍ فَأُعْطِيَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ وہ پھٹ گئی اور اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں صرف یہی تبدیلی ہوئی کہ اسے کچھ دینے کا حکم دیا جو اسے دے دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057
حدیث نمبر: 13195 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَهُ، أَخَو أُمِّ سُلَيْمٍ، فِي سَبْعِينَ رَجُلًا، فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ، وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ، أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ، أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ، أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ، قَالَ: فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، فَقَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي، فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ، فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ، فَقَالَ لَهُمْ: كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ، فَإِنْ آمَنُونِي وَإِلَّا كُنْتُمْ قَرِيبًا، فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ، فَقَالَ: أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ، وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ ثُمَّ قَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ، كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ، قَالَ أَنَسٌ فَأُنْزِلَ عَلَيْنَا وَكَانَ مِمَّا يُقْرَأُ فَنُسِخَ" أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا"، قَالَ: فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو "" جو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے "" ان ستر صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا جو بیئر معونہ کے موقع پر شہید کردیئے گئے تھے، اس وقت مشرکین کا سردار عامر بن طفیل تھا، وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تھا اور کہا تھا کہ میرے متعلق تین میں سے کوئی ایک بات قبول کرلیجئے، یا تو شہری لوگ آپ کے اور دیہاتی لوگ میرے ہوجائیں، یا میں آپ کے بعد خلیفہ نامزد کیا جاؤں، ورنہ پھر میں آپ کے ساتھ بنو غطفان کے ایک ہزار سرخ و زرد گھوڑوں اور ایک ہزار سرخ و زرد اونٹوں کو لے کر جنگ کروں گا، اسے کسی قبیلے کی عورت کے گھر میں بعد ازاں کسی نے نیزے سے زخمی کردیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں قبیلے کی عورت کے گھر میں ایسا پھوڑا ملا جیسے اونٹ میں ہوتا ہے، میرا گھوڑا لے کر آؤ، گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کی پشت سے اترنا نصیب نہ ہوا، راستے ہی میں مرگیا۔ حضرت حرام رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لے کر چلے، ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا لنگڑا تھا، انہوں نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم میرے قریب ہی رہنا تاآنکہ میں واپس آجاؤں، اگر تم مجھے حالت امن میں پاؤ تو بہت بہتر، ورنہ اگر وہ مجھے قتل کردیں تو تم میرے قریب تو ہوگے، باقی ساتھیوں کو جا کر مطلع کردینا، یہ کہہ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے۔ متعلقہ قبیلے میں پہنچ کر انہوں نے فرمایا کہ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا سکوں؟ انہوں نے اجازت دے دی، حضرت حرام رضی اللہ عنہ ان کے سامنے پیغام ذکر کرنے لگے اور دشمنوں نے پیچھے سے ایک آدمی کو اشارہ کردیا جس نے پیچھے سے آکر ان کے ایسا نیزہ گھونپا کہ جسم کے آر پار ہوگیا، حضرت حرام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے "" اللہ اکبر "" رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، گرگئے، پھر انہوں نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا، صرف وہ لنگڑا آدمی بچ گیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، اسی مناسبت سے یہ وحی نازل ہوئی "" جس کی پہلے تلاوت بھی ہوئی تھی، بعد میں منسوخ ہوگئی "" کہ ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور اس نے ہمیں راضی کردیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چالیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ "" جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی تھی "" کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2801، م: 6707
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2801، م: 6707
حدیث نمبر: 13196 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: م: 1981
الحكم: إسناده صحيح، خ: م: 1981
حدیث نمبر: 13197 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4621 م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4621 م: 2359
حدیث نمبر: 13198 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ" قَالُوا: وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ:" يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي، فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13198]
حکم دارالسلام
صحيح لغیرہ، وهذا إسناد حسن فی الشواھد من أجل أبی ھلال الراسبی، وانظر: 13008
الحكم: صحيح لغیرہ، وهذا إسناد حسن فی الشواھد من أجل أبی ھلال الراسبی، وانظر: 13008
حدیث نمبر: 13199 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَا خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ:" لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13199]
حکم دارالسلام
حدیث حسن، وهذا إسناد ضعیف لضعف أبی ھلال الراسبی، وسلف ھذا الحدیث من حسن بن موسی وحدہ برقم: 12567 وانظر: 12383
الحكم: حدیث حسن، وهذا إسناد ضعیف لضعف أبی ھلال الراسبی، وسلف ھذا الحدیث من حسن بن موسی وحدہ برقم: 12567 وانظر: 12383
حدیث نمبر: 13200 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ حَارِثَةُ أَصَابَ خَيْرًا وَإِلَّا أَكْثَرْتُ الْبُكَاءَ! قَالَ:" يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ لَفِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ وبکا کروں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13200]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، خ:6567 وهذا إسناد حسن، فی المتابعات والشواھد من أجل أبی ھلال الراسبی، وقد توبع
الحكم: حدیث صحيح، خ:6567 وهذا إسناد حسن، فی المتابعات والشواھد من أجل أبی ھلال الراسبی، وقد توبع
حدیث نمبر: 13201 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، فَأَجَابَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک یہودی نے جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبول فرمالی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12861.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12861.