عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ" قَالُوا: وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ:" يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي، فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13198]
حکم دارالسلام
صحيح لغیرہ، وهذا إسناد حسن فی الشواھد من أجل أبی ھلال الراسبی، وانظر: 13008
الحكم: صحيح لغیرہ، وهذا إسناد حسن فی الشواھد من أجل أبی ھلال الراسبی، وانظر: 13008