بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 102 از 109
حدیث نمبر: 13962 مسند احمد
شَبَابَةُ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ" تَزَوَّجَ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ"، قَالَ: فَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1427
حدیث نمبر: 13963 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
الحكم: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 13964 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حُمَيْدٍ ، وَشُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِلَّا الشَّهِيدَ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13964]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2795، م: 1877، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، خ: 2795، م: 1877، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13965 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13965]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 706، م: 469
الحكم: حديث صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 13966 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَنَسًا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ"، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13966]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2041، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، م: 2041، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 13967 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا"، وَكَانَ أَنَسٌ يَكْرَهُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا، راوی کے بقول حضرت انس رضی اللہ عنہ اسے ناپسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 13968 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُلْقِي فِي النَّارِ، وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ أَوْ رِجْلَهُ عَلَيْهَا، وَتَقُولُ: قَطْ، قَطْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس، بس۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13968]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4848، م: 2848
الحكم: حديث صحيح، خ: 4848، م: 2848
حدیث نمبر: 13969 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدِيُّ ، رَجُلٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُعْجَبًا، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13969]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن شعبة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن شعبة
حدیث نمبر: 13970 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13970]
حکم دارالسلام
حديث صحيح متواتر، خ: 108، م فى المقدمة: 2
الحكم: حديث صحيح متواتر، خ: 108، م فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 13971 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مُطِرْنَا بَرَدًا، وَأَبُو طَلْحَةَ صَائِمٌ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قِيلَ لَهُ: أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (مدینہ منورہ) میں اولوں کی بارش ہوئی، اس دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، وہ اولے اٹھا اٹھا کر کھانے لگے، کسی نے ان سے کہا کہ آپ روزہ رکھ کر یہ کھا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13972 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شَرِيكٍ ، شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13972]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5558، م: 1966، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه قد
الحكم: حديث صحيح، خ: 5558، م: 1966، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه قد
حدیث نمبر: 13973 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ ، يَعْقُوبُ ، شَرِيكٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي، أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي، إِذَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے اور رکوع و سجود مکمل کیا کرو، بخدا! جب تم رکوع و سجود کرتے ہو تو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13973]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 822، م: 493، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 822، م: 493، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 13974 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عُمُومَةً لَهُ" شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے کسی چچا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے عید کا چاند دیکھنے کی شہادت دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اگلے دن نماز عید کے لئے نکلیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13974]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الحديث غلط فيه سعيد بن عامر الضبعي البصري، وإنما رواه شعبة عن أبى بشر - وهو بيان بن بشر - عن أبى عمير بن أنس، عن عمومة من أصحاب النبى صلى الله عليه و آله وسلم: أنه جاء ركب إلى النبى صلى الله عليه و آله وسلم فشهدوا......
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الحديث غلط فيه سعيد بن عامر الضبعي البصري، وإنما رواه شعبة عن أبى بشر - وهو بيان بن بشر - عن أبى عمير بن أنس، عن عمومة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم: أنه جاء ركب إلى النبى ﷺ فشهدو
حدیث نمبر: 13975 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهَا صُفُوفًا يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عز وجل، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عِبَادَ اللَّهِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ، وَلَمْ يَضْرِبْ بِسَيْفٍ، وَلَمْ يَطْعَنْ بِرُمْحٍ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ"، قَالَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ، وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ، فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، أَوْ سَكَتَ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: صَدَقَ عُمَرُ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ، انْهَزَمُوا بِكَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اے گروہ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے تنہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کرلیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کرلیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ تمہیں دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13976 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ، وَغَطَفَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ، قَالَ: وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، قَالَ: فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ، وَالذُّرِّيَّةِ، فَجُعِلُوا خَلْفَ ظُهُورِهِمْ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى النَّاسُ، قَالَ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، قَالَ: فَنَزَلَ، وَقَالَ:" إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، قَالَ: وَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ، لَمْ يُخْلَطْ بَيْنَهُمَا كَلَامٌ، وَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ:" أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ"، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، امْشِ، نَحْنُ مَعَكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ:" أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ"، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ مَعَكَ، ثُمَّ نَزَلَ بِالْأَرْضِ وَالْتَقَوْا، فَهَزَمُوا وَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّلَقَاءَ، وَقَسَمَ فِيهَا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نُدْعَى عِنْدَ الْكُرْهِ، وَتُقْسَمُ الْغَنِيمَةُ لِغَيْرِنَا! فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَهُمْ وَقَعَدَ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ:" أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَسَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ، تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟"، قَالُوا: رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَضِينَا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: قَالَ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: وَأَنْتَ تُشَاهِدُ ذَاكَ؟ قَالَ: فَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْ ذَاكَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بہت بڑی جمعیت لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ لوگ تھے، ان میں طلقاء بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے جانوروں اور بچوں کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سفید خچر سے اتر کر مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، پھر دائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ خوش ہوں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ خوش ہوں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس کے بعد اللہ نے (مسلمانوں کو فتح اور) کافروں کو شکست سے دوچار کردیا اور مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مال غنیمت طلقاء کے درمیان تقسیم کردیا، اس پر کچھ انصاری کہنے لگے کہ حملے کے وقت ہمیں بلایا جاتا ہے اور مال غنیمت دوسروں کو دیا جاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انصار کو ایک خیمے میں جمع کیا اور فرمایا اے گروہ انصار! تمہارے حوالے سے یہ کیا بات مجھے معلوم ہوئی ہے؟ وہ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ یہی بات فرمائی، وہ پھر خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا، پھر فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں پیغمبر اللہ کو سمیٹ کرلے جاؤ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم راضی ہیں، ہشام بن زید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ اس موقع پر موجود تھے؟ انہوں نے فرمایا میں کہاں غائب ہوسکتا ہوں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13976]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
حدیث نمبر: 13977 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ" غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَسْلِمْ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13977]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1356
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1356
حدیث نمبر: 13978 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ، فَدَعَاهُ إِلَى الإسلام، فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ، ثُمَّ مَاتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1356
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1356
حدیث نمبر: 13979 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عِيسَى يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" إِنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي سِرًّا، لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک ایسا راز ہے جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا تاآنکہ ان سے جاملوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13980 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، خ: 108، م فى المقدمة: 2
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، خ: 108، م فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 13981 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ أَنَّهُ" جَمَعَ بَيْنَ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے یوں فرمایا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13981]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، إلا أنه قد توبع فيما سيأتي برقم: 13984
الحكم: حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، إلا أنه قد توبع فيما سيأتي برقم: 13984