بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 44 از 109
حدیث نمبر: 12801 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ" وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
الحكم: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 12802 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ"، وَقَالَ حَجَّاجٌ: عَنْ مُسِنِّهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3801، م: 2510
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3801، م: 2510
حدیث نمبر: 12803 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَلا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَوْ كَانَ يَقُولُهُ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ، لَتَمَنَّى أَوْ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآں کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12803]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر لزاما: 12228
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر لزاما: 12228
حدیث نمبر: 12804 مسند احمد
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم يَقُولُ، فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ, فَذَكَرَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12804]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12805 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَجَّاجٌ ، شعبةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حدثني شعبةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ، قَالَ: وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12805]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6773، م: 1706
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6773، م: 1706
حدیث نمبر: 12806 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَتَبْقَى النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ"، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَذْهَبُ الرِّجَالُ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 81، م: 2671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 81، م: 2671
حدیث نمبر: 12807 مسند احمد
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «يَذْهَبُ الرِّجَالُ وَتَبْقَى النِّسَاءُ» . [انظر: ١٣٩٤٦]
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12808 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2868
الحكم: إسناده صحيح، م: 2868
حدیث نمبر: 12809 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقَنَّ قَالَ حَجَّاجٌ يَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ وَتَحْتَ قَدَمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1214، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1214، م: 551
حدیث نمبر: 12810 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ، سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے "" بسم اللہ "" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز سے قرأت کا آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسی چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے ایسا سوال نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 399
الحكم: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12811 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحِبُّ الدُّبَّاءَ قَالَ حَجَّاجٌ: الْقَرْعَ قَالَ: فَأُتِيَ بِطَعَامٍ أَوْ دُعِيَ لَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12811]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 12812 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال پیدا برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
الحكم: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
حدیث نمبر: 12813 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12813]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 723، م: 433
الحكم: إسناده صحيح، خ: 723، م: 433
حدیث نمبر: 12814 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12814]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 15، م: 44
الحكم: إسناده صحيح، خ: 15، م: 44
حدیث نمبر: 12815 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ إِذَا أَكَلَ، وَقَالَ:" إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمْ الصَّحْفَةَ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانا کھا کر اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور پیالہ اچھی طرح صاف کرلیا کرو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2034
الحكم: إسناده صحيح، م: 2034
حدیث نمبر: 12816 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2280، م: 1577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2280، م: 1577
حدیث نمبر: 12817 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ" اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ" سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زبیر بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7068
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7068
حدیث نمبر: 12818 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12818]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1089، م: 690
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1089، م: 690
حدیث نمبر: 12819 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ سَنْبَرٌ الْجَحْدَرِيُّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ سَنْبَرٌ الْجَحْدَرِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا أَتَوْا الْمَدِينَةَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ وَرَاعِيهَا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، قَالَ: فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَأَطْرَدُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَطَرَحَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1501، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1501، م: 1671
حدیث نمبر: 12820 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ" قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ لَافٍ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، قَالَ: وَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ" قَالَ أَبُو عَامِرٍ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي الْجَنَّةِ أنا أَوْ فِي النَّارِ؟ قَالَ:" فِي النَّارِ"، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا: نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی "" جب تک میں یہاں کھڑا ہوں "" سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں؟ فرمایا جہنم میں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12820]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6362، 7089، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6362، 7089، م: 2359