مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ، سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے "" بسم اللہ "" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز سے قرأت کا آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسی چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے ایسا سوال نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 399
الحكم: إسناده صحيح، م: 399