بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 86 از 109
حدیث نمبر: 13642 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَادِيًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، قَالَ: وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرْ الْقَوَارِيرَ"، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " اس کی آواز بہت اچھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انچثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6211، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6211، م: 2323
حدیث نمبر: 13643 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ خَيَّاطًا بِالْمَدِينَةِ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ، قَالَ: فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ"، قَالَ أَنَسٌ: لَمْ يَزَلْ الْقَرْعُ يُعْجِبُنِي مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 13644 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ ، عَطَاءً يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَيْمُونَةَ ، يُحَدِّثُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يُرْفَعْ إِلَيْهِ قِصَاصٌ قَطُّ، إِلَّا أَمَرَ بِالْعَفْوِ"، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: كُنْتُ أُحَدِّثُهُ عَنْ أَنَسٍ، فَقَالُوا لِي: عَنْ أَنَسٍ لَا شَكَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13644]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 13645 مسند احمد
حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَزَادَ حُمَيْدٌ : عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلى الصَّلاَةِ، فَلْيَمْشِ عَلَى نَحْوِ مَا كَانَ يَمْشِي، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَالْإِرْمَامُ: السُّكُوتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13645]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13646 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإسلام مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ"، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيْهِ إِهَالَةٌ سَنِخَةٌ، فَأَكَلُوا مِنْهَا، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسی کو تناول فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4100، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4100، م: 1805
حدیث نمبر: 13647 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
حدیث نمبر: 13648 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْمَعَ. وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ: فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13649 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1743
الحكم: إسناده صحيح، م: 1743
حدیث نمبر: 13650 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَقَدْ قَالَ مَرَّةً: أَفْطَرَ أَفْطَرَ أَفْطَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 13651 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13652 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَكَانَ يَسْتَمِعُ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَسَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ: خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کرتے تھے اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان لا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2944، م: 382
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2944، م: 382
حدیث نمبر: 13653 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ، وَلَا مُؤْوِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2715
الحكم: إسناده صحيح، م: 2715
حدیث نمبر: 13654 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، ثُمَّ دَعَانِي، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ، فَجِئْتُ وَقَدْ أَبْطَأْتُ عَنْ أُمِّي، فَقَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَاجَةٍ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَمَا هِيَ؟ فَقُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ:" لَا تُحَدِّثْ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا"، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ، لَوْ كُنْتُ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا، لَحَدَّثْتُكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، بخدا! اے ثابت! اگر میں وہ کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2482
الحكم: إسناده صحيح، م: 2482
حدیث نمبر: 13655 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ بِي، وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي؟ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَلَا تَقُولُونَ: أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَخَائِفًا فَأَمَّنَّاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ؟ فَقَالُوا: بَلْ لِلَّهِ الْمَنُّ عَلَيْنَا وَلِرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بےراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ بےیارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13655]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13656 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا: کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
حدیث نمبر: 13657 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128".
حدیث نمبر: 13658 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ" أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ تَغَيَّبَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَقَالَ: تَغَيَّبْتُ عَنْ أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَئِنْ رَأَيْتُ قِتَالًا، لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، انْهَزَمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ أَنَسٌ، فَرَأَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مُنْهَزِمًا، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْروٍ، أَيْنَ؟ أَيْنَ؟ قُمْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ، فَحَمَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا اسْتَطَعْتُ مَا اسْتَطَاعَ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَلَقَدْ كَانَتْ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ ضَرْبَةً، مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ: رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23".
حدیث نمبر: 13659 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْعَضْبَاءَ كَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ، فَسَابَقَهَا، فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ، فَكَأَنَّ ذَلِكَ اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا، إِلَّا وَضَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13659]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2872
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2872
حدیث نمبر: 13660 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ كَانَ بَلَاءً فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: اصْبُغُوهُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيَصْبُغُونَهُ فِيهَا صَبْغَةً، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ، أَوْ شَيْئًا تَكْرَهُهُ؟ فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَكْرَهُهُ قَطُّ، ثُمَّ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ النَّاسِ كَانَ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُولُ: اصْبُغُوهُ فِيهَا صَبْغَةً، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ خَيْرًا قَطُّ، وَلَا قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی نعمتوں میں رہا ہوگا، اسے جہنم کا ایک چکر لگوایا جائے گا پھر پوچھا جائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر کبھی نعمتوں کا گذر ہوا ہے؟ وہ کہے گا کہ پروردگار! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں، اس کے بعد اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی مصیبتوں میں رہا ہوگا، اسے جنت کا ایک چکر لگوایا جائے گا اور پھر پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے؟ کیا کبھی تجھ پر کسی سختی کا گذر ہوا ہے؟ وہ کہے گا کہ پروردگار! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں، مجھ پر کوئی پریشانی نہیں آئی اور میں نے کوئی تکلیف نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13660]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2807
الحكم: إسناده صحيح، م: 2807
حدیث نمبر: 13661 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَصَوَّرَهُ ثُمَّ تَرَكَهُ فِي الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ، عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13661]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2611
الحكم: إسناده صحيح، م: 2611