عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْعَضْبَاءَ كَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ، فَسَابَقَهَا، فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ، فَكَأَنَّ ذَلِكَ اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا، إِلَّا وَضَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13659]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2872
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2872