بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 45 از 109
حدیث نمبر: 12821 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 742، م: 425
الحكم: إسناده صحيح، خ: 742، م: 425
حدیث نمبر: 12822 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ" قَالَ: قِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ"، قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَوْ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا لگتا ہے، کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی! فال سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھی بات۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
حدیث نمبر: 12823 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ"، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مَا فَرِحُوا يَوْمَئِذٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد میں نے لوگوں کا اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا اس دن دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12824 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْخَطَّابِ الْأَنْصَارِيُّ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْخَطَّابِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ، إِذْ جَاءَنِي عِيسَى، فَقَالَ: هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ: يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ، وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ، فالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ، فأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزَّكْمَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ" قَالَ: قَالَ عِيسَى، انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ" قَالَ:" فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى، وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ: اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ" قَالَ:" فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا، وَاحِدًا" قَالَ:" فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي، فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ، حَتَّى أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا کہ قیامت کے دن میں کھڑا اپنی امت کا انتظار کر رہا ہوں گا تاکہ وہ پل صراط کو عبور کرلے، کہ اسی اثناء میں میرے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ سارے انبیاء (علیہم السلام) اکٹھے ہو کر آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ اللہ سے دعاء کردیں کہ امتوں کی اس بھیڑ کو جہاں چاہے متفرق کر کے ان کے ٹھکانوں میں پہنچا دے کیونکہ لوگ بہت پریشان ہو رہے ہیں، اس وقت سب لوگ پیسنے کی لگام منہ میں ڈالے ہوں گے۔ مسلمان پر تو وہ زکام کی طرح ہوگا اور کافر پر موت جیسی کیفیت طاری ہوجائے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے فرمائیں گے کہ آپ یہاں میرا انتظار کیجئے، میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جا کر عرش کے نیچے کھڑے ہوجائیں گے اور وہ رتبہ آپ کو ملے گا جو کسی منتخب فرشتے اور نبی مرسل کو عطاء نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو یہ پیغام دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ سر اٹھائیے، سوال تو کیجئے، عطاء ہوگا اور سفارش کیجئے قبول ہوگی، چنانچہ میری امت کے متعلق یہ سفارش قبول ہوگی کہ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی جہنم سے نکال لوں، لیکن میں اپنے رب سے مسلسل اصرار کرتا رہوں گا اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹوں گا جب تک میری سفارش قبول نہ ہوجائے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سفارش کی قبولیت عطاء فرماتے ہوئے کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ نے آپ کی امت میں جتنے لوگ پیدا کئے ہیں ان میں سے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیجئے جس نے ایک دن بھی اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوگیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وفي متن هذا الحديث غرابة، وقوله: قال: « عيسى انتظر حتى أرجع إليك » الأقرب أن هذا من كلام النبى صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، فعيسي منادي بحذف حرف النداء، وصيغة « انتظر » للأمر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وفي متن هذا الحديث غرابة، وقوله: قال: « عيسى انتظر حتى أرجع إليك » الأقرب أن هذا من كلام النبى صلی اللہ علیہ وسلم ، فعيسي منادي بحذف حرف النداء، وصيغة « انتظر » للأمر
حدیث نمبر: 12825 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: قَالَ:" أَنَا فَاعِلٌ" , قَالَ: فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ" قَالَ: قُلْتُ: فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ:" فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ قَالَ:" فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ، لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن میری سفارش فرمائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں کر دوں گا، میں نے پوچھا کہ میں قیامت کے دن آپ کو کہاں تلاش کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے تو مجھے پل صراط پر تلاش کرنا، میں نے عرض کیا اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں تو؟ فرمایا پھر میں میزان عمل کے پاس موجود ہوں گا، میں نے عرض کیا اگر آپ وہاں بھی نہ ملیں تو؟ فرمایا پھر میں حوض کوثر پر ہوں گا اور قیامت کے دن ان تینوں جگہوں سے آگے پیچھے نہ جاؤں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12825]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، ومتنه غريب
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، ومتنه غريب
حدیث نمبر: 12826 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، قَالَ:" ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2369، قال النووي: قال العلماء: إنما قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم هذا تواضعا واحتراما لإبراهيم علیہ السلام ، لخلته وأبوته ، وإلا فنبينا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم أفضل كما قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : أنا سيد ولد آدم وانظر: 2546
الحكم: إسناده صحيح، م: 2369، قال النووي: قال العلماء: إنما قال صلی اللہ علیہ وسلم هذا تواضعا واحتراما لإبراهيم علیہ السلام ، لخلته وأبوته ، وإلا فنبينا صلی اللہ علیہ وسلم أفضل كما قال صلی اللہ علیہ وسلم : أن
حدیث نمبر: 12827 مسند احمد
سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْمِسْمَعِيَّ ، حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْمِسْمَعِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ:" قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ يَوْمَيْنِ خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12828 مسند احمد
سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا،" لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ"، قَالَ: فَقِيلَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَشَيْنٌ هُوَ؟ قَالَ: يُقَالُ: كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ، وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2341
الحكم: إسناده صحيح، م: 2341
حدیث نمبر: 12829 مسند احمد
سَهْلٌ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلَلٍ،" فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، فَأَخْرَجَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی سیدھی کی تو اس نے اپنا سر نکال دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6889، م: 2157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6889، م: 2157
حدیث نمبر: 12830 مسند احمد
سَهْلٌ ، حُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ"، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَسْنَدَاهُ جَمِيعًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12831 مسند احمد
سَهْلٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ يَوْمَ أُحُدٍ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ"، فَأُنْزِلَتْ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128.
حدیث نمبر: 12832 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا، قَالَ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 12833 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
حدیث نمبر: 12834 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھالیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12835 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا، قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ" فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: حَلَفْتَ لَا تَحْمِلُنَا، قَالَ:" وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكُمْ" فَحَمَلَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرمادیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرمادی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12836 مسند احمد
عفان ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عفان ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ: اسْتَحْمَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَفَ لَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ لَا تَحْمِلُنَا؟ قَالَ:" وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرمادیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرمادی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12836]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12837 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا خَيْرًا، وَتَتَابَعَتْ الْأَلْسُنُ لَهَا بِالْخَيْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ" ثُمَّ مَرَّتْ جَنَازَةٌ أُخْرَى فَقَالُوا لَهَا شَرًّا، وَتَتَابَعَتْ الْأَلْسُنُ لَهَا بِالشَّرِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1367، م: 949
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1367، م: 949
حدیث نمبر: 12838 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ نَشْكُو إِلَيْهِ الْحَجَّاجَ، فَقَالَ:" لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ أَوْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ"، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زبیر بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7068
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7068
حدیث نمبر: 12839 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، ابْنِ جَبْر بْنِ عَتِيكٍِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ ابْنِ جَبْر بْنِ عَتِيكٍِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رَطْلَانِ مِنْ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وضو کے لئے دو رطل پانی ہی کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12839]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 12840 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ السَّبُعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
الحكم: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493