عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَهُمْ، فَاسْتَبْرَأَ الْفَزَعَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، فَقَالَ:" لَمْ تُرَاعُوا" وَقَالَ لِلْفَرَسِ:" وَجَدْنَاهُ بَحْرًا" أَوْ" إِنَّهُ لَبَحْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307