يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ" قَالَ: فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، وَهُمْ يَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، قَالَ: فَظَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ، وَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ، فَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟ فَقَالَ لَكَ أَنَسٌ: أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا؟ فَضَحِكَ ثَابِتٌ، وَقَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی اور اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کو فتح کرلیا، ان کے لڑاکا افراد کو قتل اور بچوں کو قیدی بنالیا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ، حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آگئی، بعد میں وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365