بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 34 از 109
حدیث نمبر: 12601 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12389
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12389
حدیث نمبر: 12602 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ رَوْحَةٌ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام کو جہاد کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12602]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2792، م: 1880، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2792، م: 1880، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12603 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الدُّنْيَا، لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحَ الْمِسْكِ، وَلَطُيِّبَ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12603]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6568، وهذا إسناد حسن كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 6568، وهذا إسناد حسن كسابقه
حدیث نمبر: 12604 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، مَهْدِيٌّ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پر سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6492
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6492
حدیث نمبر: 12605 مسند احمد
عَارِمٌ ، أَبُو عَوَانَة ، وهشامُ بن سعيدٍ ، أبو عَوانةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن الْأَصَمِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، وهشامُ بن سعيدٍ ، قال: أخبرنا أبو عَوانةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتَبْعَثُ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟! قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ به إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا، وَتَسْتنَْفِعَ بِثَمَنِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2072
الحكم: إسناده صحيح، م: 2072
حدیث نمبر: 12606 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِي ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ ذُكِرَ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ:" لَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا" أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 129
حدیث نمبر: 12607 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَنَسًا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ أَنَسًا قَالَ:" قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا، وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ، وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَلَمَّا انْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي، فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ، قَالَ: وَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ، فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا سورة الحجرات آية 9".
حدیث نمبر: 12608 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، أَبِي ، السُّمَيْطُ السَّدُوسِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ السَّدُوسِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: فَتَحْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رُئيَتْ أَوْ رَأَيْتَ فَصُفَّ الْخَيْلُ، ثُمَّ صُفَّتْ الْمُقَاتِلَةُ، ثُمَّ صُفَّتْ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، ثُمَّ صُفَّتْ الْغَنَمُ، ثُمَّ صُفَّتْ النَّعَمُ، قَالَ: وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ خُيُولُنَا تَلُوذُ خَلْفَ ظُهُورِنَا، قَالَ: فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ انْكَشَفَتْ خُيُولُنَا، وَفَرَّتْ الْأَعْرَابُ وَمَنْ تَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، يَا لَلْمُهَاجِرِينَ" ثُمَّ قَالَ:" يَا لَلْأَنْصَارِ، يَا لَلْأَنْصَارِ"، قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: وَايْمُ اللَّهِ، مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمْ اللَّهُ، قَالَ: فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ، قال: ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ، فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: فَنَزَلْنَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ، وَيُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ، قَالَ: فَتَحَدَّثَتِ الْأَنْصَارُ بَيْنَهَا أَمَّا مَنْ قَاتَلَهُ فَيُعْطِيهِ، وَأَمَّا مَنْ لَمْ يُقَاتِلْهُ فَلَا يُعْطِيهِ! قَالَ: فَرُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَرَاةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ أَوْ الْأَنْصَارُ" قَالَ: فَدَخَلْنَا الْقُبَّةَ حَتَّى مَلَأْنَا الْقُبَّةَ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَوْ كَمَا قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي؟" قَالُوا: مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَا حَدِيثٌ أَتَانِي؟" قَالُوا: مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَدْخُلُوا بُيُوتَكُمْ؟" قَالُوا: رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَخَذَ النَّاسُ شِعْبًا، وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ" قَالُوا: رَضينا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ" فَارْضَوْا" أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے مکہ فتح کرلیا پھر ہم نے حنین کا جہاد کیا، مشرکین اچھی صف بندی کر کے آئے جو میں نے دیکھیں، پہلے گھڑ سواروں نے صف باندھی پھر پیدل لڑنے والوں نے اس کے پیچھے عورتوں نے صف بندی کی پھر بکریوں کی صف باندھی گئی۔ پھر اونٹوں کی صف بندی کی گئی اور ہم بہت لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ چکی تھی اور ایک جانب کے سواروں پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سالار تھے۔ پس ہمارے سوار ہماری پشتوں کے پیچھے پناہ گزیں ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوئے اور دیہاتی بھاگے اور وہ لوگ جن کو ہم جانتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکارا اے مہاجرین! اے مہاجرین! پھر فرمایا اے انصار، اے انصار! حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے چچاؤں کی ہے۔ ہم نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھے، پس اللہ کی قسم ہم پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی۔ پھر ہم نے وہ مال قبضہ میں لے لیا پھر ہم طائف کی طرف چلے تو ہم نے اس کا چالیس روز محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف لوٹے اور اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایک کو سو سو اونٹ دینے شروع کردیئے، یہ دیکھ کر انصار آپس میں باتیں کرنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہی لوگوں کو عطاء فرما رہے ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا تھا اور جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قتال نہیں کیا انہیں کچھ نہیں دے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا: اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو کیا بات معلوم ہوئی ہے؟ دو مرتبہ یہی بات ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھیرے ہوئے اپنے گھروں کو جاؤ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم خوش ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم راضی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خوش رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12608]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4333، م: 1059
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4333، م: 1059
حدیث نمبر: 12609 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلَا فَحَّاشًا، وَلَا لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ:" مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بےہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12609]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 6031
الحكم: إسناده حسن، خ: 6031
حدیث نمبر: 12610 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: لَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَوْ صَلَّاهَا أَحَدُكُمْ الْيَوْمَ، لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ شَرِيكٌ وَمُسْلِمُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ: أَفَلَا تَذْكُرُ ذَاكَ لِأَمِيرِنَا؟ وَالْأَمِيرُ يَوْمَئِذٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيرِ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز اس طرح پڑھی ہے کہ اگر آج تم میں سے کوئی شخص اس طرح پڑھنے لگے تو تم اسے مطعون کرو گے، یہ سن کر شریک اور مسلم بن ابی نمران سے کہنے لگے کہ آپ یہ بات ہمارے گورنر کو کیوں نہیں بتاتے؟ اس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مدینہ کے گورنر تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں یہ بھی کرچکا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12610]
حکم دارالسلام
ضعيف الانقطاع بين عبيدالله بن عبدالله بن موهب وبين أنس ولبعد طبقة منه ، فهو عندئذ منقطع أو معضل، والتصريح بالسماع خطأ من الراوي عنه ، وانظر فى ثناء أنس على صلاة عمر بن عبد العزيز: 12465
الحكم: ضعيف الانقطاع بين عبيدالله بن عبدالله بن موهب وبين أنس ولبعد طبقة منه ، فهو عندئذ منقطع أو معضل، والتصريح بالسماع خطأ من الراوي عنه ، وانظر فى ثناء أنس على صلاة عمر بن عبد العزيز: 12465
حدیث نمبر: 12611 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ، جَلَسَ وَتَشَهَّدَ، ثُمَّ دَعَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ، بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى"، قَالَ عَفَّانُ" دَعَا بِاسْمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ) " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں "۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12611]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، و خلف بن خليفة- وإن كان قد اختلط بأخرة- لم ينفرد بهذا الحديث، فقد توبع ، انظر: 12205
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، و خلف بن خليفة- وإن كان قد اختلط بأخرة- لم ينفرد بهذا الحديث، فقد توبع ، انظر: 12205
حدیث نمبر: 12612 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، خَلَفٌ ، حَفْصِ بْنِ عُمَ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ النَّبِيُّ عَلَيْهِ" عَلَيْكُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ قُلْتَ؟" فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ، كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُوهَا، حَتَّى يَرْفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ، فَقَالَ: اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اور دوسرے لوگوں کو سلام کیا، سب نے اسے جواب دیا، جب وہ بیٹھ گیا تو کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ان یحمد وینبغی لہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ اس نے ان کلمات کو دوہرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے دس فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے لکھتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ ان کلمات کا ثواب کتنا لکھیں؟ چنانچہ انہوں نے اللہ سے پوچھا تو اللہ نے فرمایا کہ انہیں اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12612]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، لكن خلف بن خليفة كان قد اختلط قبل موته، وهو قد وهم فى روايته الأول هذا الحديث، فالمحفوظ أن الرجل قال ما قاله من الحمد فى أثناء الصلاة، فانظر: 12034
الحكم: إسناده قوي، لكن خلف بن خليفة كان قد اختلط قبل موته، وهو قد وهم فى روايته الأول هذا الحديث، فالمحفوظ أن الرجل قال ما قاله من الحمد فى أثناء الصلاة، فانظر: 12034
حدیث نمبر: 12613 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَعَفَّانُ ، خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ، وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا، وَيَقُولُ:" تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، إِنِّي مُكَاثِرٌ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے اور اس سے اعراض کرنے کی شدید ممانعت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ محبت کرنے والی اور بچوں کی ماں بننے والی عورت سے شادی کیا کرو کہ میں قیامت کے دن دیگر انبیاء (علیہم السلام) پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12613]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12614 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَفْصٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتُصْعِبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا، وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ، وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" قُومُوا، فَقَامُوا فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَته، فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: يَا رسولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ، فَقَالَ" لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ" فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ نَحْوَهُ، حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ، حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا نبيَّ اللَّهِ، هَذِهِ بَهِيمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَكَ، وَنَحْنُ نَعْقِلُ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ! فَقَالَ:" لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ تَلَحَسَْهُ، مَا أَدَّتْ حَقَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کا ایک گھرانا تھا جس کے پاس پانی لادنے والا ایک اونٹ تھا، ایک دن وہ اونٹ سخت بدک گیا اور کسی کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیا، وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ ہمارا ایک اونٹ تھا جس پر ہم پانی بھر کر لایا کرتے تھے، آج وہ اس قدر بد کا ہوا ہے کہ ہمیں اپنے اوپر سوار ہی نہیں ہونے دیتا۔ اور کھیت اور باغات خشک پڑے ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اٹھو اور چل پڑے، وہاں پہنچ کر باغ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ اونٹ ایک کونے میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف چل پڑے، یہ دیکھ کر انصار کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ تو وحشی کتے کی طرح ہوا ہوا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں یہ آپ پر حملہ نہ کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جب اونٹ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے گہر پڑا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس کی پیشانی سے پکڑا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ فرمانبردار ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کام پر لگا دیا، یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ ناسمجھ جاندار آپ کو سجدہ کرسکتے ہیں تو ہم تو پھر عقلمند ہیں، ہم آپ کو سجدہ کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی انسان کے لئے دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اس کا حق اس پر زیادہ ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر مرد کے پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک سارا جسم پھوڑا بن جائے اور خون پیپ بہنے لگے اور بیوی آکر اسے چاٹنے لگے تب بھی اس کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں چالیس انصاری حضرات کے ساتھ شام میں عبدالملک کے پاس لے جایا گیا، تاکہ وہ ہمارا وظیفہ مقرر کر دے، واپسی پر جب ہم فج الناقہ میں پہنچے تو اس نے ہمیں عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر کر اپنے خیمے میں چلا گیا، لوگ کھڑے ہو کر مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا اللہ ان چہروں کو بدنما کرے، بخدا! انہوں نے سنت پر عمل کیا اور نہ رخصت قبول کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کچھ لوگ دین میں خوب تعمق کریں گے اور دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12614]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: والذي نفسي بيده لو كان من قدمه وھذا الحرف تفرد به حسین المروزي عن خلف بن خلیفة، وخلف کان قد اختلط قبل موته
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: والذي نفسي بيده لو كان من قدمه وھذا الحرف تفرد به حسین المروزي عن خلف بن خلیفة، وخلف کان قد اختلط قبل موته
حدیث نمبر: 12615 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، خَلَفٌ ، حَفْصٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: انْطُلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، لِيَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الظُّهرَ رَكْعَتينِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ، وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ، فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتْ السُّنَّةَ، وَلَا قَبِلَتْ الرُّخْصَةَ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ، يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ ہمارے لئے منتخب کرو جو میری خدمت کیا کرے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر روانہ ہوئے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خادم بن گیا، خواہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہیں بھی منزل کرتے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتے ہوئے سنتا تھا کہ اے اللہ! میری پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں مستقل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خادم رہا، ایک موقع پر جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس وقت حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منتخب فرمایا تھا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پیچھے کسی چادر یا عباء سے پردہ کرتے پھر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیتے، جب ہم مقام صہیاء میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلوہ بنایا اور دستر خوان پر چن دیا، پھر مجھے بھیجا اور میں بہت سے لوگوں کو بلا لایا، ان سب نے وہ حلوہ کھایا، جو دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اور جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12615]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وخلف بن خليفة متابع
الحكم: إسناده قوي، وخلف بن خليفة متابع
حدیث نمبر: 12616 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12616]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد خ: 5425، م: 1365
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد خ: 5425، م: 1365
حدیث نمبر: 12617 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ، صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ آخری نماز جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ پڑھی وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12618 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يَغْزُ بِنَا لَيْلًا حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو سواری سے کود پڑتے اور اگر سواری پر رہتے تو اس کی رفتار مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، خ: 2944، م: 382
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، خ: 2944، م: 382
حدیث نمبر: 12619 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَأَبْصَرَ جُدْرَانَ الْمَدِينَةِ، أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، فَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا، مِنْ حُبِّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12619]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1802
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1802
حدیث نمبر: 12620 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا هَبَّتْ الرِّيحُ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12620]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1034
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1034