عَارِمٌ ، أَبُو عَوَانَة ، وهشامُ بن سعيدٍ ، أبو عَوانةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن الْأَصَمِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، وهشامُ بن سعيدٍ ، قال: أخبرنا أبو عَوانةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتَبْعَثُ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟! قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ به إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا، وَتَسْتنَْفِعَ بِثَمَنِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2072
الحكم: إسناده صحيح، م: 2072