بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 17 از 109
حدیث نمبر: 12261 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلُوهُ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا يُعَلِّمُهُمْ، فَبَعَثَ مَعَهُمْ أَبَا عُبَيْدَةَ، وَقَالَ" هُوَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2419
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2419
حدیث نمبر: 12262 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ:" يَا فُلَانَةُ"، يُعْلِمُهُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَظُنُّ بِكَ؟!، قَالَ: فَقَالَ:" إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكَ الشَّيْطَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات سے اندیشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دماغ میں نہ گھس جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2174
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2174
حدیث نمبر: 12263 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا، كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1800 ، م: 1928
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1800 ، م: 1928
حدیث نمبر: 12264 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً، يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَيُعْطَى بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، فَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2808
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2808
حدیث نمبر: 12265 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5903 ، م: 2338
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5903 ، م: 2338
حدیث نمبر: 12266 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ، ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ، حَسَنَ الْوَجْهِ"، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں اور ہتھیلیاں بھرئی ہوئی اور چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5907
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5907
حدیث نمبر: 12267 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، ثم َيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں جیسے وہ آدمی کھاتا ہے جسے کھانے کی خواہش ہو اور وہ اس کے کھانے سے معلوم ہو رہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12268 مسند احمد
حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، مُرَجَّي بْنُ رَجَاءٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُرَجَّي بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ، يَأْكُلُهُنَّ إِفْرَادًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عید گاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک ایک ایک کر کے چند کھجوریں نہ کھالیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12268]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 953، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 953، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12269 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَفْطَرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ ختم کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12270 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول:" إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا) اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 745، والحديث هنا مختصر، وسيأتي بأطول مما هنا برقم: 12361
الحكم: إسناده صحيح، خ: 745، والحديث هنا مختصر، وسيأتي بأطول مما هنا برقم: 12361
حدیث نمبر: 12271 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَيُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَيُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، فَقَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا"، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ، وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً فَيَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ"، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَضِيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں، تو ایک فرشتہ " جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے " آکر اسے بٹھا دیتا ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور سے ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی قبر اتنی تنگ کردی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12271]
حکم دارالسلام
إسناد صحيحان، خ: 1338, م: 2870
الحكم: إسناد صحيحان، خ: 1338, م: 2870
حدیث نمبر: 12272 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ، جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6983 ، م: 2264
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6983 ، م: 2264
حدیث نمبر: 12273 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2817 ، م: 1877
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2817 ، م: 1877
حدیث نمبر: 12274 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَسٍ بن مالك
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ بن مالك ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلَا لَعَّانًا، وَلَا فَحَّاشًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بےہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6031
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6031
حدیث نمبر: 12275 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ؟، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: نَعَمْ، أَنَا، قَالَ: فَانْزِلْ، قَالَ: فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں کو جھلملاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو رات کو اپنی بیوی کے قریب نہ گیا ہو؟ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! میں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قبر میں تم اترو، چنانچہ وہ قبر میں اترے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12275]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه، خ: 1285، وقوله : شهدنا ابنة لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، قال الحافظ فى الفتح 158/3 هي أم كلثوم زوج عثمان ...... وقوله : «لم يقارف» ، قال سريج- كما برقم: 13383. يعني ذنبا ، والمعنى الصحيح. لم يجامع، كما فى رواية ثابت عن أنس 13398 مرفوعا: «لا يدخل القبر رجل قارف أهله»
الحكم: إسناده حسن كسابقه، خ: 1285، وقوله : شهدنا ابنة لرسول الله صلى الله عليه وسلم، قال الحافظ فى الفتح 158/3 هي أم كلثوم زوج عثمان ...... وقوله : «لم يقارف» ، قال سريج- كما برقم: 13383. يعني ذنبا ، والمعنى
حدیث نمبر: 12276 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، زَائِدَةُ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، قَالُوا: مَا رَأَيْتَ؟، قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ"، وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ إِمَامَهُمْ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ، وَقَالَ لَهُمْ:" إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي، وَمِنْ خَلْفِي"، وَسَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ؟، فَقَالَ: يَرْكَعُ، وَيَسْجُدُ قَاعِدًا فِي الْمَكْتُوبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں آگے بڑھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں، اگر وہ تم نے دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز کی ترغیب دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 419 ، م: 426
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 419 ، م: 426
حدیث نمبر: 12277 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، بَكَّارُ بْنُ مَاهَانَ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ مَاهَانَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي عَلَى نَاقَتِهِ تَطَوُّعًا فِي السَّفَرِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی اونٹنی پر دوران سفر قبلہ کی تعیین کے بغیر بھی نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12277]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة بكار بن ماهان
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة بكار بن ماهان
حدیث نمبر: 12278 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ شُمَيْطٍ ، عَبْدَ اللَّهِ الْحَنَفِيَّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ شُمَيْطٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الْحَنَفِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر وفاقہ جو خاک نشین کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12278]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي
الحكم: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي
حدیث نمبر: 12279 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ ، أَبِيهِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ"، فَقِيلَ: مَنْ أَهْلُ اللَّهِ مِنْهُمْ؟، قَالَ:" أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ کون لوگ ہوتے ہیں؟ فرمایا قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12279]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12280 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، أَبِيهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اس وقت ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر پاس ہی پڑی ہوئی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12280]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن