بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 23 از 109
حدیث نمبر: 12381 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ، وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ"، قَالَ: ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ:" التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اسلام ظاہر کا نام ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے، پھر اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12381]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة، وهذا الراوي يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وهو هنا قد تفرد بهذا الحديث، وأما قوله: «التقوى هاهنا» فله شاهد من حديث أبى هريرة عند مسلم: 2564، وسلف فى المسند برقم: 7727
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة، وهذا الراوي يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وهو هنا قد تفرد بهذا الحديث، وأما قوله: «التقوى هاهنا» فله شاهد من حديث أبى هريرة عند مسلم: 2564، وسلف فى المسند برقم: 7727
حدیث نمبر: 12382 مسند احمد
بَهْزٌ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ" شَعْرُهُ رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ، وَلَا بِالسَّبْطِ، كَانَ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بہت زیادہ سیدھے اور وہ کانوں اور کندھوں کے درمیان تک ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5905، م: 2338
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5905، م: 2338
حدیث نمبر: 12383 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا قَالَ:" لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12383]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، لكنه لم یتفرد بھذا الحدیث فیعتبر به فیتحسن الحدیث بطرقة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، لكنه لم یتفرد بھذا الحدیث فیعتبر به فیتحسن الحدیث بطرقة
حدیث نمبر: 12384 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنَهُ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ، وقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلّى، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ، فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشَمٍ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، فَقَالَ قَائِلٌ: بَلَى، وَمَا هُوَ مِنْ قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ"، أَوْ قَالَ:" لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اسے ہرگز نہیں کھا سکے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12385 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، فَرُبَّمَا قَالَ:" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟" فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ بِهَا وَجْبَةً، ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، وَفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ، تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ، قَالَتْ: فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ الْبَيْذَخِ، أَوْ قَالَ: إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَحِ، قَالَ: فَغُمِسُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قَالَتْ: ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا، وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا فِيهَا بُسْرٌ، فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا، وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمْ الْمَرْأَةُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ"، فَجَاءَتْ، قَالَ:" قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ"، فَقَصَّتْ، قَالَ: هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کرلیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جا رہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دئیے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12385]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12386 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، سُلَيْمَانُ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، الْمَعْنَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12387 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخبرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَامِلَهُ، فَنَكَتَهُنَّ فِي الْأَرْضِ، فَقَالَ:" هَذَا ابْنُ آدَمَ"، وَقَالَ: بِيَدِهِ خَلْفَ ذَلِكَ، وَقَالَ:" هَذَا أَجَلُهُ"، قَالَ: وَأَوْمَأَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: وَثَمَّ أَمَلُهُ، ثَلَاثَ مِرَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا: یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12238
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12238
حدیث نمبر: 12388 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ، وَمَا نَدْرِي لَمَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12388]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى أبى العلاء
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى أبى العلاء
حدیث نمبر: 12389 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 12118
الحكم: إسناده صحيح، خ: 12118
حدیث نمبر: 12390 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3251
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3251
حدیث نمبر: 12391 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کی عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہ، فاطمہ بنت (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کافی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12391]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12392 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ، قَالَتْ: ابْنَةُ يَهُودِيٍّ، فَبَكَتْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟"، فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ!، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكِ ابْنَةُ نَبِيٍّ، وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ، فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟، فَقَالَ: اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کہا ہے کہ وہ یہودی کی بیٹی ہے، اس پر وہ رونے لگیں، اتفاقاً نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حفصہ نے میرے متعلق کہا ہے کہ میں ایک یہودی کی بیٹی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ایک نبی کی نسل میں بیٹی ہو، تمہارے چچا بھی اگلی نسل میں نبی تھے اور تم خود ایک نبی کے نکاح میں ہو اور تم کس چیز پر فخر کرنا چاہتی ہو اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حفصہ! اللہ سے ڈرا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12392]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12393 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا، فَقَالَ: حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَنَعَمْ إِذًا"، قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهُ إِذًا، أَمَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جُلَيْبِيبًا، وَقَدْ مَنَعْنَاهَا مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانٍ؟! قَالَ: وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْتَمِعُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَتْ الْجَارِيَةُ: أَتُرِيدُونَ أَنْ تَرُدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ؟! إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ، فَأَنْكِحُوهُ، قال: فَكَأَنَّهَا جَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا، وَقَالَا: صَدَقْتِ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ قَدْ رَضِيتَهُ، فَقَدْ رَضِينَاهُ، قَالَ:" فَإِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ"، فَزَوَّجَهَا، ثُمَّ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، فَرَكِبَ جُلَيْبِيبٌ فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ، قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَمِنْ أَنْفَقِ بَيْتٍ فِي المدينة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جلیبب رضی اللہ عنہ کے لئے ایک انصاری عورت سے نکاح کا پیغام اس کے والد کے پاس بھیجا، اس نے کہا کہ میں پہلے لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرلوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے اس بات کا تذکرہ کیا، اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہہ دیا، بخدا! کسی صورت میں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جلیبب کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا، ہم نے تو فلاں فلاں رشتے سے انکار کردیا تھا، ادھر وہ لڑکی اپنے پردے میں سن رہی تھی۔ باہم صلاح و مشورے کے بعد جب وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ لڑکی کہنے لگی کیا آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو رد کریں گے، اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضا مندی اس میں شامل ہے تو آپ نکاح کردیں، یہ کہہ کر اس نے اپنے والدین کی آنکھیں کھول دیں اور وہ کہنے لگے کہ تم سچ کہہ رہی ہو، چنانچہ اس کا باپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اس رشتے پر راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں راضی ہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جلیبب سے اس لڑکی کا نکاح کردیا، کچھ ہی عرصے کے بعد اہل مدینہ پر حملہ ہوا، جلیبب بھی سوار ہو کر نکلے، فراغت کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ شہید ہوچکے ہیں اور ان کے ارد گرد مشرکیں کی کئی لاشیں پڑی ہیں جنہیں انہوں نے تنہا قتل کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کو دیکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے گھر کی خاتون تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12394 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ ، خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ، وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ، وَكَيْفَ أَصْنَعُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ، فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ، وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْلِلْ لِي، قَالَ:" فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ، وَالْمِسْكِينَ، وَابْنَ السَّبِيلِ، وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا"، فَقَالَ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ، فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا، فَلَكَ أَجْرُهَا، وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی تمیم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بہت مالدار، اہل و عیال اور خاندان والا آدمی ہوں، آپ مجھے بتائیے کہ میں کیسے خرچ کروں اور کس کام پر کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ نکالا کرو کہ اس سے تمہارا مال پاکیزہ ہوجائے گا اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کیا کرو، سائل، پڑوسی اور مسکینوں کو ان کا حق دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بس یہ میرے لئے کافی ہے، جب میں اپنے مال کی زکوٰۃ آپ کے قاصد کے حوالے کر دوں تو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں میں بری ہوجاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب تم میرے قاصد کو زکوٰۃ ادا کردو تو تم اس سے عہدہ برآ ہوگئے اور تمہیں اس کا اجر ملے گا اور گناہ اس کے ذمے ہوگا جو اس میں تبدیلی کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، لكن قيل فى رواية سعيد بن أبى هلال عن أنس: إنها مرسلة
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، لكن قيل فى رواية سعيد بن أبى هلال عن أنس: إنها مرسلة
حدیث نمبر: 12395 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المدينة وَهِيَ مُحَمَّةٌ، فَحُمَّ النَّاسُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ قُعُودٌ يُصَلُّونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ"، فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الصَّلَاةَ قِيَامًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کی آب و ہوا گرم تھی جس کی وجہ سے لوگ بخار میں مبتلاء ہوگئے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے، اس پر لوگ لپک کر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12395]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه من ابن شهاب، وسيأتي من طريق إسماعيل بن محمد بن سعد برقم: 13236، وإسناده صحيح
الحكم: حديث صحيح، ابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه من ابن شهاب، وسيأتي من طريق إسماعيل بن محمد بن سعد برقم: 13236، وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 12396 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا،" فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟، فَقَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور قیلولہ کے لئے لیٹ گئے، (گرمی کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آنے لگا، میری والدہ یہ دیکھ کر ایک شیشی لائیں اور وہ پسینہ اس میں ٹپکانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو پوچھا کہ ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے اور یہ سب سے بہترین خوشبو ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331
حدیث نمبر: 12397 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟، قَالَ: فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ، قَالَ: يَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَفْتَحَ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا، داروغہ جہنم پوچھے گا کون؟ میں کہوں گا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کہے گا کہ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 197
الحكم: إسناده صحيح، م: 197
حدیث نمبر: 12398 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ لَنَا طَلِبَةً، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا، فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا"، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظَهْرٍ لَهُمْ فِي عُلْوِ المدينة، قَالَ:" لَا، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا"، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُوذِنُهُ"، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ"، قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَقَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟"، قَالَ: لَا وَاللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا"، قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: ثُمَّ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان کے لشکر کی خبر لانے کے لئے جاسوس بنا کر بھیجا، وہ واپس آئے تو گھر میں میرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے اور لوگوں سے اس حوالے سے بات کی اور فرمایا کہ ہم قافلے کی تلاش میں نکل رہے ہیں جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ چلے، کچھ لوگوں نے اجازت چاہی کہ مدینہ کے بالائی حصے سے اپنی سواری لے آئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جس کی سواری موجود ہو وہ چلے (انتظار نہیں کریں گے) چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے کنویں پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھی میری اجازت کے بغیر کسی چیز کی طرف قدم آگے نہ بڑھائے، جب مشرکین قریب آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس جنت کی طرف لپکو جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے، یہ سن کر عمیر بن حمام انصاری کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس پر وہ کہنے لگے واہ واہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کس بات پر واہ واہ کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ کی قسم صرف اس امید پر کہ میں اس کا اہل بن جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اہل جنت میں سے ہو، پھر عمیر اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے، پھر اچانک ان کے دل میں خیال آیا کہ اگر میں ان کھجوروں کو کھانے تک زندہ رہا تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی، چنانچہ وہ کھجوریں ایک طرف رکھ کر میدان کارزار میں گھس پڑے اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12398]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1901
الحكم: إسناده صحيح، م: 1901
حدیث نمبر: 12399 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى قَوْلِهِ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ سورة الحجرات آية 2، وَكَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ رَفِيعَ الصَّوْتِ، فَقَالَ: أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَبِطَ عَمَلِي، أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ! وَجَلَسَ فِي أَهْلِهِ حَزِينًا، فَتَفَقَّدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَيْهِ، فَقَالُوا لَهُ: تَفَقَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَكَ؟، فَقَالَ: أَنَا الَّذِي أَرْفَعُ صَوْتِي فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَأَجْهَرُ بِالْقَوْلِ، حَبِطَ عَمَلِي، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ:" لَا، بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ أَنَسٌ وَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ كَانَ فِينَا بَعْضُ الِانْكِشَافِ، فَجَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَقَدْ تَحَنَّطَ وَلَبِسَ كَفَنَهُ، فَقَالَ: بِئْسَمَا تُعَوِّدُونَ أَقْرَانَكُمْ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ "" اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ "" جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی "" کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آکر ذکر کردی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان چلتے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ وہ جنتی ہیں، جنگ یمامہ کے دن ہماری صفوں میں کچھ انتشار پیدا ہوا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت انہوں نے اپنے جسم پر حنوط مل رکھی تھی اور کفن پہنا ہوا تھا اور فرمانے لگے تم اپنے ہم نشینوں کی طرف برا لوٹے ہو، یہ کہہ کر وہ لڑتے لڑتے اتنا آگے بڑھ گئے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3613، م: 119
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3613، م: 119
حدیث نمبر: 12400 مسند احمد
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2325
الحكم: إسناده صحيح، م: 2325