هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا،" فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟، فَقَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور قیلولہ کے لئے لیٹ گئے، (گرمی کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آنے لگا، میری والدہ یہ دیکھ کر ایک شیشی لائیں اور وہ پسینہ اس میں ٹپکانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو پوچھا کہ ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے اور یہ سب سے بہترین خوشبو ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331