بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 47 از 109
حدیث نمبر: 12861 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هَمَّامٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَقَدْ جَعَلَهُ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَقَرْعٍ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَرْعَ مِنَ الصَّحْفَةِ، قَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12861]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، م: 2041
الحكم: إستاده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 12862 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الْبَهِيمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5513 م: 1956
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5513 م: 1956
حدیث نمبر: 12863 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا"، قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ: رَخَّصَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5839، م: 2076
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5839، م: 2076
حدیث نمبر: 12864 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ كِتَابًا إِلَى الرُّومِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا لَمْ يُقْرَأْ كِتَابُكَ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
حدیث نمبر: 12865 مسند احمد
مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ ، هَمَّامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ، وَجَدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ، وَحَدَّثَنَا بِبَعْضِهِ فِي مَكَانٍ آخَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ لَهُ بُنَيًّا، قَالَ: فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، قَالَ: فَمَرِضَ الصَّبِيُّ مَرَضًا شَدِيدًا، فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ، وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ، وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ، فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ، فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ، قَالَ: فَرَاحَ عَشِيَّةً، وَمَاتَ الصَّبِيُّ، قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ فَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ، قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ؟ قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ، فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ، قَالَتْ: وَقُمْتُ أَنَا فَمَسِسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ، كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ، تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ، قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا، وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ، وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيهِ، فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا!" قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا"، قَالَ: فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَلِدُ غُلَامًا، قَالَ: فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ، قَالَ: فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ، قَالَ: وَلَمْ يُحَنَّكْ، وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، مَا وَلَدَتْ؟" قُلْتُ غُلَامًا، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ" فَقَالَ:" هَاتِهِ إِلَيَّ" فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ" مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً، وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ، ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ، جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ"، فَسُمِّيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ، قَالَ: وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہ سے " جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں " شادی کرلی، ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس سے بڑی محبت تھی، ایک دن وہ بچہ انتہائی شدید بیمار ہوگیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے اور ظہر کی نماز کے بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے، ایک دن وہ دوپہر کو گئے، تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا، جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا، انہوں نے کھانا کھایا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے بستر پر سر رکھ کر لیٹ گئے، وہ کہتی ہیں کہ میں کھڑی ہوگئی اور خوشبو لگا کر آئی اور ان کے ساتھ بستر پر لیٹ گئی، جب انہیں خوشبو کی مہک پہنچی تو انہیں وہی خواہش پید اہوئی جو ہر مرد کو اپنی بیوی سے ہوتی ہے، صبح ہوئی تو وہ حسب معمول تیاری کرنے لگے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! اگر کوئی آدمی آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائے آپ اس سے فائدہ اٹھائیں پھر وہ آپ سے اس کا مطالبہ کرے اور وہ چیز آپ سے لے لے تو کیا اس پر آپ جزع فزع کریں گے، انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا پھر آپ کا بیٹا فوت ہوگیا ہے، اس پر وہ سخت ناراض ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کا، خوشبو لگانے کا اور خلوت کا سارا واقعہ بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ بچہ تمہارے پہلو میں پڑا رہا اور تم دونوں نے ایک دوسرے سے خلوت کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایسا ہی ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اسی رات امید سے ہوگئیں اور ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، صبح ہوئی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے جاؤ اور اپنے ساتھ کچھ عمدہ کھجوریں بھی لے جانا، انہوں نے خود اسے گھٹی دی اور نہ ہی کچھ چکھایا، میں نے اسے اٹھا کر ایک کپڑے میں لپیٹا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لڑکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے الحمدللہ کہہ کر فرمایا اسے میرے پاس لاؤ، میں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے گھٹی دینے کے لئے پوچھا کہ تمہارے پاس عجوہ کھجوریں ہیں؟ میں نے عرض کی جی ہاں! اور کجھوریں نکال لیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں رکھی اور اسے چباتے رہے، جب وہ لعاب دہن میں مل گئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بچے کو اس سے گھٹی دی، اسے کھجور کا مزہ آنے لگا اور چوسنے لگا، گویا اس کی انتڑیوں میں سب سے پہلی جو چیز گئی وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لعاب دہن تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار کو کجھور سے بڑی محبت ہے، پھر اس کا نام عبداللہ بن ابی طلحہ رکھا، اس کی نسل خوب چلی اور وہ ایران میں شہید ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12865]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12866 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، أَوْ مَهْرَهَا"، قَالَ يَحْيَى: أَوْ أَصْدَقَهَا عِتْقَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5169، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5169، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها
حدیث نمبر: 12867 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ وَقَالَ يَحْيَى: مَرَّةً مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی دعاء میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے موقع پر کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ بلند فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1031، م: 896، وقال النووي فى شرح مسلم: ويتأول حديث أنس على أنه لم يرفع الرفع البليغ بحيث يرى بياض إبطيه إلا في الاستسقاء ۔۔۔ وانظر فتح الباري: 143/11، 142
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 896، وقال النووي فى شرح مسلم: ويتأول حديث أنس على أنه لم يرفع الرفع البليغ بحيث يرى بياض إبطيه إلا في الاستسقاء ۔۔۔ وانظر فتح الباري: 143/11، 142
حدیث نمبر: 12868 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" أَسْلِمْ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي كَارِهًا، قَالَ:" وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی سے اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پسند نہ بھی ہوتب بھی اسلام قبول کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12869 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ، وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ، فَأَتَى آتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ؟ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ، فقالوا: يا أنس، أكفئ ما بقي في إنائك، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا، وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ، وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ عنہ، ابی کعب رضی اللہ عنہ عنہ، سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کو حرمت خمر کا حکم نازل ہونے سے پہلے پلایا کرتا تھا اور اتنی پلاتا تھا کہ اس کا اثر ان پر نظر آتا تھا، ایک دن ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر یہ نہیں کہا کہ ٹھہرو، پہلے تحقیق کرتے ہیں، بلکہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، بخدا! اس کے بعد وہ کبھی اس کے قریب نہیں گئے اور وہ بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5582، م: 1980
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5582، م: 1980
حدیث نمبر: 12870 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حج '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1251
الحكم: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 12871 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، قُلْتُ: فَالْأَكْلُ؟ قَالَ: ذَاكَ أَشَدُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2024
الحكم: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 12872 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم:" يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ أَفْئِدَةً"، فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى، فَجَعَلُوا لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12873 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِبَدْرٍ وَهُوَ يُنَادِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا" قَالُوا: كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا؟! قَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12874 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ النبي صلى الله عليه و آله وسلم:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا، وَلَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِيهِ"، قَالُوا: وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟! قَالَ:" حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2839 ، 2838، م: 4423
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2839 ، 2838، م: 4423
حدیث نمبر: 12875 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ بَعْدَ مَا أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12876 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ دِيَارِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرَى الْمَسْجِدُ، فَقَالَ:" يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟" فَأَقَامُوا، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: أَخْطَأَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَإِنَّمَا هُوَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ يَحْيَى الْمَسْجِدَ، وَضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي هَاهُنَا، وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ فِي كِتَابِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کے طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 655، وأما رواية: أن يعری المسجد فهي خلاف الرواية المشهورة، مع عدم ظهور معناها ، ولكن إن صحت تحمل على: أن المراد مسجدهم، لا مسجد النبى صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
الحكم: إسناده صحيح، خ: 655، وأما رواية: أن يعری المسجد فهي خلاف الرواية المشهورة، مع عدم ظهور معناها ، ولكن إن صحت تحمل على: أن المراد مسجدهم، لا مسجد النبى صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 12877 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ، فَخَفَّفَ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ خَفَّفَ مِنْ أَجْلِ أُمِّهِ الصلاة رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس بچے پر شفقت کا اظہار تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر 12067
الحكم: إسناده صحيح، وانظر 12067
حدیث نمبر: 12878 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، يَحْيَى ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَوْجَزَ"، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو نماز مکمل اور مختصر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12878]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 706، م:469
الحكم: إسناده صحيح، خ: 706، م:469
حدیث نمبر: 12879 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَحْيَى: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12879]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12880 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا"، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک موخر کردیا اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 572، م: 640
الحكم: إسناده صحيح، خ: 572، م: 640