بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 74 از 109
حدیث نمبر: 13402 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنَ التَّفْسِيرِ، قَالَ: قَوْلُهُ: يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ".
حدیث نمبر: 13403 مسند احمد
يُونُسُ ، عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي يَوْمِ خَمِيسٍ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ، فَتَغَدَّى بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ، ثُمَّ أَتَوْهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ، فَأَكَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ، وَأَمْسَكَ بَعْضٌ، فَقَالَ لَهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : لَعَلَّكُمْ اثْنَانِيُّونَ، لَعَلَّكُمْ خَمِيسِيُّونَ! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ، حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ، حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ، وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعرات کے دن حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے ہمارے لئے دسترخوان منگوایا اور کھانے کی دعوت دی، کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے ہاتھ روکے رکھا، پھر پیر کے دن حاضری ہوئی تو انہوں نے پھر دستر خوان منگوایا اور حسب سابق کھانے کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے نہ کھایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا شاید تم لوگ پیر والے اور جمعرات والے ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے تھے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور بعض اوقات اتنا افطار فرماتے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13403]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عثمان بن رشيد ضعفه يحيى بن معين، وقد سلف برقم: 12012 بإسناد صحيح «وكان يصوم من الشهر حتى نقول: لا يفطر منه شيئا، ويفطر حتى نقول: لا يصوم منه شيئا» .
الحكم: إسناده ضعيف، عثمان بن رشيد ضعفه يحيى بن معين، وقد سلف برقم: 12012 بإسناد صحيح «وكان يصوم من الشهر حتى نقول: لا يفطر منه شيئا، ويفطر حتى نقول: لا يصوم منه شيئا» .
حدیث نمبر: 13404 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13405 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِك ، حَسَنٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك : أَنَّ قَوْمًا ذَكَرُوا عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ، قَالَ حَسَنٌ : عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ، فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: مَا الْحَوْضُ؟! فَبَلَغَ ذَلِكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ: لَا جَرَمَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: ذَكَرْتُمْ الْحَوْضَ؟ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، يَقُولُ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً، يَقُول:" إِنَّ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ، أَوْ: مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَمَكَّةَ، وَإِنَّ آنِيَتَهُ أَكْثَرُ مِنْ نُجُومِ السَّمَاءِ"، قَالَ حَسَنٌ:" وَإِنَّ آنِيَتَهُ لَأَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کچھ لوگوں نے حوض کوثر کا تذکرہ کیا، اس نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا کیسا حوض؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا بخدا! میں اسے قائل کر کے رہوں گا، چنانچہ وہ ابن زیاد کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا تم لوگ حوض کوثر کا تذکرہ کر رہے تھے؟ ابن زیاد نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیشمار مرتبہ فرماتے تھے کہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ اور مکہ کے درمیان ہے (یا صنعاء اور مکہ کے درمیان ہے) اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13405]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر ما بعده.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر ما بعده.
حدیث نمبر: 13406 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْحَوْضُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ بِهِ وَلَأَفْعَلَنَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13406]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 13407 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَرَجُلٌ يُحِبُّ رَجُلًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَرَجُلٌ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا وَنَصْرَانِيًّا"، قَالَ حَسَنٌ: أَوْ نَصْرَانِيًّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 16، م: 43، والمحفوظ فى حديث أنس فى «الصحيحين» وغيرهما: «أن يرجع فى الكفر» أو «يعود فى الكفر» ، انظر: 12002 ، 12783.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 16، م: 43، والمحفوظ فى حديث أنس فى «الصحيحين» وغيرهما: «أن يرجع فى الكفر» أو «يعود فى الكفر» ، انظر: 12002 ، 12783.
حدیث نمبر: 13408 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا اسْتِعْمَالُهُ؟ قَالَ: يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13409 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْتِي بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي بَيْتِهَا، فَتَأْتِي فَتَجِدُهُ نَائِمًا، وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَا عَرَقٍ، فَتَأْخُذُ عَرَقَهُ بِقُطْنَةٍ فِي قَارُورَةٍ، فَتَجْعَلُهُ فِي سُكِّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں، وہ روئی سے اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں اور اپنی خوشبو میں شامل کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331.
حدیث نمبر: 13410 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ شَجَرَةً كَانَتْ عَلَى طَرِيقِ النَّاسِ كَانَتْ تُؤْذِيهِمْ، فَأَتَاهَا رَجُلٌ، فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک درخت سے راستے میں گذرنے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13410]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل أبى هلال الراسبي.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل أبى هلال الراسبي.
حدیث نمبر: 13411 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ ، أَبِي ظِلَالٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ ، عَنْ أَبِي ظِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ: يَا حَنَّانُ، يَا مَنَّانُ، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا، فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ، فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُكِبِّينَ يَبْكُونَ، فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ، فَيُخْبِرُهُ، فَيَقُولُ: ائْتِنِي بِهِ، فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَيَجِيءُ بِهِ، فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ، فَيَقُولُ لَهُ: يَا عَبْدِي، كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، شَرَّ مَكَانٍ، وَشَرَّ مَقِيلٍ، فَيَقُولُ: رُدُّوا عَبْدِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تَرُدَّنِي فِيهَا، فَيَقُولُ: دَعُوا عَبْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک بندہ ایک ہزار سال تک " یا حنان یا منان " کہہ کر اللہ کو پکارتا رہے گا، اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمائیں گے کہ جا کر میرے اس بندے کو لے کر آؤ، جبرائیل چلے جائیں گے، وہاں پہنچ کر وہ اہل جہنم کو ایک دوسرے کے اوپر اوندھا پڑا ہوا پائیں گے اور وہ لوگ رو رہے ہوں گے (حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے پہچان نہ سکیں گے) اور واپس آکر پروردگار کو اس کی خبر دیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ فلاں فلاں جگہ میں ہے، اسے وہاں سے نکال کر میرے پاس لاؤ، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اسے لا کر بارگاہ الٰہی میں پیش کردیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ بندے! تو نے اپنا ٹھکانہ اور آرام کرنے کی جگہ کیسی پائی؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ اور بدترین آرام گاہ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو واپس جہنم میں لے جاؤ، وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! جب آپ نے مجھے جہنم سے نکلوایا تھا تو مجھے یہ امید نہیں تھی کہ آپ دوبارہ مجھے اس میں واپس لوٹا دیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، أبو ظلال القسملي مجمع على ضعفه۔ ویغنی عن آخر الحدیث ما سلف برقم: 13312 بإسناد صحيح
الحكم: إسناده ضعيف جدا، أبو ظلال القسملي مجمع على ضعفه۔ ویغنی عن آخر الحدیث ما سلف برقم: 13312 بإسناد صحيح
حدیث نمبر: 13412 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَفَعَهُ، قَالَ:" إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 672، م: 557.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 672، م: 557.
حدیث نمبر: 13413 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكًا ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ، جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَة، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 13414 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 706، م: 469.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469.
حدیث نمبر: 13415 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ: ارْكَبْهَا وَيْحَكَ، أَوْ وَيْلَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323.
حدیث نمبر: 13416 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059.
حدیث نمبر: 13417 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَعَوَّذُ مِنَ الْعَجْزِ وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2823، م:2706
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2823، م:2706
حدیث نمبر: 13418 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرٌ ، عِمْرَانُ الْبَصْرِيُّ الْقَصِيرُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْبَصْرِيُّ الْقَصِيرُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ، أَوْ ضَيَّعْتُهُ، فَلَامَنِي، فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ: دَعُوهُ، فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ: لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دوران اگر مجھے کسی کا حکم دیا اور مجھے اس میں تاخیر ہوگئی یا وہ کام نہ کرسکا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی ملامت نہ کی، اگر اہل خانہ میں سے کوئی شخص ملامت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ اسے چھوڑ دو، اگر تقدیر میں یہ کام لکھا ہوتا تو ضرور ہوجاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13418]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع، عمران القصير لم يسمع من أنس وإنما رآه رؤية.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع، عمران القصير لم يسمع من أنس وإنما رآه رؤية.
حدیث نمبر: 13419 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ ثَابِتٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عِمْرَانَ الْبَصْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13419]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وانظر ما قبله.
الحكم: حديث صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13420 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَيُّوبَ يَعْنِي الْقَصَّابَ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي الْقَصَّابَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ كَالْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص نماز میں کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13420]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 822، م: 493، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 822، م: 493، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13421 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُسْرِيَ بِي، مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13421]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.