يُونُسُ ، عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي يَوْمِ خَمِيسٍ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ، فَتَغَدَّى بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ، ثُمَّ أَتَوْهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ، فَأَكَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ، وَأَمْسَكَ بَعْضٌ، فَقَالَ لَهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : لَعَلَّكُمْ اثْنَانِيُّونَ، لَعَلَّكُمْ خَمِيسِيُّونَ! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ، حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ، حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ، وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعرات کے دن حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے ہمارے لئے دسترخوان منگوایا اور کھانے کی دعوت دی، کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے ہاتھ روکے رکھا، پھر پیر کے دن حاضری ہوئی تو انہوں نے پھر دستر خوان منگوایا اور حسب سابق کھانے کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے نہ کھایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا شاید تم لوگ پیر والے اور جمعرات والے ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے تھے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور بعض اوقات اتنا افطار فرماتے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13403]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عثمان بن رشيد ضعفه يحيى بن معين، وقد سلف برقم: 12012 بإسناد صحيح «وكان يصوم من الشهر حتى نقول: لا يفطر منه شيئا، ويفطر حتى نقول: لا يصوم منه شيئا» .
الحكم: إسناده ضعيف، عثمان بن رشيد ضعفه يحيى بن معين، وقد سلف برقم: 12012 بإسناد صحيح «وكان يصوم من الشهر حتى نقول: لا يفطر منه شيئا، ويفطر حتى نقول: لا يصوم منه شيئا» .