بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 68 از 109
حدیث نمبر: 13282 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، مِسْعَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوَاصِلُوا، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ: فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر:12740
الحكم: إسناده صحيح، انظر:12740
حدیث نمبر: 13283 مسند احمد
عبد الله بْنُ نُمَيْرٍ ، سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٌ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الله بْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ، وَقَدْ جَعَلَ لَهُ طَعَامًا، فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: قُومُوا، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا صَنَعْتُ شَيْئًا لَكَ، قَالَ: فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي، عَشَرَةً، فَقَالَ: كُلُوا، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَخَرَجُوا، وَقَالَ: أَدْخِلْ عَشَرَةً، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً، وَيُخْرِجُ عَشَرَةً، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ، ثُمَّ هَيَّأَهَا، فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانے پر بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا اٹھو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے تو صرف آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور برکت کی دعاء کر کے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے سب آدمیوں کو وہ کھانا کھلایا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا اور ہم نے بھی اسے کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد حسن
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13284 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ،" أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ، أَتَدْرُونَ مَا قَالَ؟ قَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " وعلیک " پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے " السام علیک " یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم اس کی گردن نہ اڑا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6926
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6926
حدیث نمبر: 13285 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ،" أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سُمًّا فِي لَحْمٍ، ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهَا جَعَلَتْ فِيهِ سُمًّا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابھی اس میں سے ایک لقمہ ہی کھایا تھا کہ فرمانے لگے اس عورت نے اس میں زہر ملایا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تالو میں اس زہر کا اثر دیکھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2617، م: 2190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2617، م: 2190
حدیث نمبر: 13286 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ، أَوْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: قَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: نَعَمْ،، قَالَ: فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4961، م: 799
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4961، م: 799
حدیث نمبر: 13287 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى، وَالَّتِي تَلِيهَا، ثُمَّ يَقُولُ:" إِنَّمَا بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ، فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13288 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، قَالَ: فَيُقَالُ: لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ سورة آل عمران آية 91".
حدیث نمبر: 13289 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِي ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: وَقَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ صُوِّرَتَا فِي هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ"، أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6362، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6362، م: 2359
حدیث نمبر: 13290 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ سُؤَالًا" أَوْ قَالَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا، فَاسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 200
الحكم: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 13291 مسند احمد
عَارِمٌ ، وَعَفَّانُ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ، قَالَ عَفَّانُ: يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلَاتِ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ، أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَجَعَلَتْ تَقُولُ: كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، أَوْ كَمَا قَالَت، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَكِ كَذَا وَكَذَا، وَتَقُولُ: كَلَّا وَاللَّهِ. قَالَ: وَيَقُولُ لَكِ: كَذَا وَكَذَا. قَالَ: حَتَّى أَعْطَاهَا، فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: عَشْرُ أَمْثَالِهَا، أَوْ قَالَ: قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهَا" أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد لوگ اپنے مال میں سے کھجور کے درخت وغیرہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دیتے تھے (اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں تقسیم کر دیتے حتیٰ کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر مفتوح ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ درخت ان کے مالکان کو واپس لوٹانا شروع کردیئے، یہ دیکھ کر میرے گھر والوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں اور درخواست کروں کہ ان کے اہل خانہ نے دو درخت دیئے تھے، بہرحال! میری درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے واپس دے دیئے، اسی اثناء میں حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ بھی آگئیں اور میرے گلے میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں یہ درخت ہرگز نہیں دے سکتے جب کہ یہ تو انہوں نے مجھے دیئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ اس کے بدلے میں اتنے درخت لے لیں لیکن وہ برابر انکار کرتی رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برابر درختوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے، حتیٰ کہ دس گنا زائد درختوں پر وہ راضی ہوگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ انہیں عطاء کردیئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13291]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3128، 4120، م: 1771
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3128، 4120، م: 1771
حدیث نمبر: 13292 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ: أَنَّ أَنَسًا ، قَالَ:: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا، وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ، وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِلَيْكَ عَنِّي، فَواللهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ لَرِيحُ حِمَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ. قَالَ: فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ، قَالَ: فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ. قَالَ: فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا سورة الحجرات آية 9".
حدیث نمبر: 13293 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے راز کی بات فرمائی تھی، میں نے وہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی، حتیٰ کہ میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے بھی مجھ سے وہ بات پوچھی تو میں نے انہیں بھی نہیں بتائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6289، م: 2482
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6289، م: 2482
حدیث نمبر: 13294 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي، كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ، أَوْ مِثْلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ" شَكَّ هِشَامٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2303، وهذا إسناد قوی
الحكم: إسناده صحيح، م: 2303، وهذا إسناد قوی
حدیث نمبر: 13295 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَصِفُ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ أَسْوَدَ، لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ، يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَيُذَابُ، فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرق النساء نامی مرض کے لئے سیاہ عربی مینڈھے کی چکی کی تشخیص فرماتے تھے جو بہت بڑا بھی نہ ہو اور بہت چھوٹا بھی نہ ہو، اس کے تین حصے کر کے اسے پگھلا لیا جائے اور روزانہ ایک حصہ پی لیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13296 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" شَاوَرَ النَّاسَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِيَّانَا تُرِيدُ؟ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ، لَأَخَضْنَاهَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ، فَعَلْنَا، فَشَأْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَانْطَلَقَ حَتَّى نَزَلَ بَدْرًا، وَجَاءَتْ رَوَايَا قُرَيْشٍ، وَفِيهِمْ غُلَامٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو سُفْيَانَ، فَلَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ، وَأَبُو جَهْلٍ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَاءَتْ، فَيَضْرِبُونَهُ، فَإِذَا ضَرَبُوهُ، قَالَ: نَعَمْ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ. فَإِذَا تَرَكُوهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ: مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَانْصَرَفَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَوَضَعَهَا، فَقَالَ: هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، فَالْتَقَوْا، فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ، فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ كَفَّيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا، فَقَالَ: يَا أَبَا جَهْلٍ، يَا عُتْبَةُ، يَا شَيْبَةُ، يَا أُمَيَّةُ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا؟ فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ جَوَابًا، فَأَمَرَ بِهِمْ، فَجُرُّوا بِأَرْجُلِهِمْ، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں، لہٰذا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کرلیا اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ؟ البتہ قریش آگئے ہیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں، چنانچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دوچار کردیا اور واللہ ایک آدمی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے اسے سچا پایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو تین دن کے بعد آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں، تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر انہیں پاؤں سے گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شاید آپ کی مراد ہم ہیں؟ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2874، وانظر ما بعدہ
الحكم: إسناده صحيح، م: 2874، وانظر ما بعدہ
حدیث نمبر: 13297 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ" بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَأَعْرَضَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ لَأَخَضْنَاهَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ"، قَالَ عَفَانُ: فَقَالَ سُلَيْمَانُ، عْنِ ابنِ عَوْن، عَنْ عَمْرو بْنِ سَعِيد، قَالَ: الغُمَاد، فَذَكَرَ عَفَّانُ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ إِلَى قَوْلِهِ: فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خروجِ دجال سے پہلے کچھ سال دھوکے والے ہوں گے، جن میں سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا، امین کو خائن اور خائن کو امین سمجھا جائے گا اور اس میں " رویبضہ " بڑھ چڑھ کر بولے گا، کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فاسق آدمی امور عامہ میں دخل اندازی کرنے لگے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1779، وانظر ما قبلہ
الحكم: إسناده صحيح، م: 1779، وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13298 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ". قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ:" الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھن بہت پسند تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13298]
حکم دارالسلام
حدیث حسن، وهذا إسناد ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن
الحكم: حدیث حسن، وهذا إسناد ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 13299 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، عُثْمَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ سِنِينَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13299]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، فإن محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث عند البزار- مسند عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه- بلفظ: «وحدثنى عبدالله بن دينار عن أنس عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم بنحوه». وانظر ماقبله
الحكم: إسناده حسن، فإن محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث عند البزار- مسند عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه- بلفظ: «وحدثنى عبدالله بن دينار عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه». وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 13300 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ"، قَالَ عَبَّادٌ: يَعْنِي: ثُفْلَ الْمَرَقَ.
حکم دارالسلام
حدیث صحيح صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحيح صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13301 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ،" فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: لِفُلَانٍ. فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ، أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ، شَكَّ أَسْوَدُ، أَوْ، أَوْ، أَوْ، ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَرَهَا، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ الْقُبَّةُ؟ قُلْتُ: بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ، فَهَدَمَهَا. قَالَ: فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گذر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہاں اینٹوں سے بنا ہوا ایک مکان نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں صاحب کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! مسجد کے علاوہ ہر تعمیر قیامت کے دن انسان پر بوجھ ہوگی، کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوبارہ وہاں سے گذر ہوا تو وہاں مکان نظر نہ آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس مکان کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے مالک کو آپ کی بات معلوم ہوئی تو اس نے اسے منہدم کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو دعاء دی کہ اللہ اس پر رحم فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13301]
حکم دارالسلام
حدیث محتمل للتحسین لطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعیف لضعف شریک النخعی
الحكم: حدیث محتمل للتحسین لطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعیف لضعف شریک النخعی