رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ،" أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ، أَتَدْرُونَ مَا قَالَ؟ قَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " وعلیک " پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے " السام علیک " یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم اس کی گردن نہ اڑا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6926
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6926