بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 5 از 109
حدیث نمبر: 12021 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا، فَهَدَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِي، أَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ، فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي، أَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً، فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا , فَآمَنَّاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ"، فَقَالُوا: بَلْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمَنُّ بِهِ عَلَيْنَا، وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بےراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ بےیارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12022 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَكَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ: بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا، إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ، لَكُنَّا مَعَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1779
الحكم: إسناده صحيح، م: 1779
حدیث نمبر: 12023 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ، فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ، فَدَعَوْنَ لَهُ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ، فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ، قَامَا مُسْرِعَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ، فرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَأَرْخَى السِّتْرَ َبَيْنَهُ وَبَيْنِي، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے یہاں رہے، اس کی صبح کو میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے دعوت ولیمہ دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12023]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5154 ، م: 1428
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5154 ، م: 1428
حدیث نمبر: 12024 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لِيَنْظُرَ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ، قَالَ: فَتَطَاوَلَ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سے سر اٹھاتے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوجاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کرسکیں اور عرض کیا کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3811 ، م: 1811
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3811 ، م: 1811
حدیث نمبر: 12025 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے؟ بنو نجار کا گھر، پھر بنو عبدالاشہل کا گھر، پھر بنو حارث بن خزرج کا اور پھر بنی ساعدہ کو اور یوں بھی انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5300 ، م: 2511
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5300 ، م: 2511
حدیث نمبر: 12026 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا"، قَالَ: فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ، يَقُولُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12027 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، قَالَ: أَظُنُّهَا عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، قَالَ: فَضَرَبَتِ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ، فَكَسَرَتْ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" غَارَتْ أُمُّكُمْ"، قَالَ: وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ، فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ، ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا"، فَأَكَلُوا، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا , فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى، وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی اہلیہ غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کردیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2481
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2481
حدیث نمبر: 12028 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَتُوُفِّيَ الْغُلَامُ، فَهَيَّأَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَيِّتَ، وَقَالَتْ لِأَهْلِهَا: لَا يُخْبِرَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَبَا طَلْحَةَ بِوَفَاةِ ابْنِهِ، فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: مَا فَعَلَ الْغُلَامُ؟، قَالَتْ: خَيْرٌ مَا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ عَشَاءَهُمْ، فَتَعَشَّوْا، وَخَرَجَ الْقَوْمُ، وَقَامَتْ الْمَرْأَةُ إِلَى مَا تَقُومُ إِلَيْهِ الْمَرْأَةُ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ اللَّيْلِ، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَلَمْ تَرَ إِلَى آلِ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا عَارِيَةً، فَتَمَتَّعُوا بِهَا، فَلَمَّا طُلِبَتْ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَاكَ، قَالَ: مَا أَنْصَفُوا، قَالَتْ: فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَإِنَّ اللَّهَ قَبَضَهُ، فَاسْتَرْجَعَ، وَحَمِدَ اللَّهَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ، قَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا"، فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ، فَوَلَدَتْهُ لَيْلًا، وَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: فَحَمَلْتُهُ غُدْوَةً وَمَعِي تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ، فَوَجَدْتُهُ يَهْنَأُ أَبَاعِرَ لَهُ، أَوْ يَسِمُهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ اللَّيْلَةَ، فَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَعَكَ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ، فَأَخَذَ بَعْضَهُنَّ فَمَضَغَهُنَّ، ثُمَّ جَمَعَ بُزَاقَهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ:" حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِ، قَالَ:" هُوَ عَبْدُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے لئے نکلے تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا اور گھر والوں سے کہا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے ساتھ مسجد سے ان کے کچھ دوست بھی آئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا سب نے کھانا کھایا، لوگ چلے گئے تو وہ ان کاموں میں لگ گئیں جو عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ جب رات کا آخری پہر ہوا تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہوا تو وہ اس پر ناگواری ظاہر کرنے لگے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ لوگ انصاف نہیں کر رہے، ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تمہارا بیٹا بھی اللہ کی طرف سے عاریت تھا، جسے اللہ نے واپس لے لیا ہے اس پر انہوں نے «انا لله وانا اليه راجعون» کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہو گئیں، جب ان کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ رات کا وقت تھا۔ انہوں نے اس وقت بچے کو گھٹی دینا اچھا نہ سمجھا اور یہ چاہا کہ اسے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھٹی دیں، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر اپنے ساتھ کچھ عجوہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آج رات ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے خود اسے گھٹی دینا مناسب نہ سمجھا اور چاہا کہ اسے آپ گھٹی دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نام رکھ دیجئے، فرمایا: اس کا نام عبداللہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5470 ، م: 2119
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5470 ، م: 2119
حدیث نمبر: 12029 مسند احمد
بُنْدَارٌ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ
حَدَّثَنَا عبدُ الله، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12030 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ، وَهُوَ فِي الْحَائِطِ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" رُوَيْدَكَ أَفْرُغُ لَكَ"، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِتُّمَا عَرُوسَيْنِ؟"، قَالَ:" فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي عُرْسِكُمَا"، وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: كَيْفَ ذَاكَ الْغُلَامُ؟، قَالَتْ: هُوَ أَهْدَأُ مِمَّا كَانَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12031 مسند احمد
مُوسَى بْنُ هِلَالٍ ، هِشَامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ، فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا، وَكَانَ يُحِبُّهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا؟!"، فَقَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا".
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 12032 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٌ ، وَيَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ كُلُّ قَرِيبِ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَبَقِيَ مَنْ كَانَ أَهْلُهُ نَائِيَ الدَّارِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ , فَصَغُرَ أَنْ يَبْسُطَ أَكُفَّهُ فِيهِ، قَالَ: فَضَمَّ أَصَابِعَهُ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ بَقِيَّتُهُمْ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَسُئِلَ أَنَسٌ كَمْ كَانُوا؟، قَالَ: ثَمَانِينَ أَوْ زِيَادَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کے لئے اذان ہوئی، مسجد کے قریب جتنے لوگوں کے گھر تھے وہ سب آگئے اور دور والے نہ آسکے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی ہتھیلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی یا کچھ زیادہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12032]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3575 ، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3575 ، م: 2279
حدیث نمبر: 12033 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ مَنَازِلِهِمْ، فَيَسْكُنُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَرِهَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ، فَقَالَ:" يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ"، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقَامُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد کے طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر وہ یہیں اقامت پذیر رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 655
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 655
حدیث نمبر: 12034 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَسُهَيْلُ بْنُ يُوسُفَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَسُهَيْلُ بْنُ يُوسُفَ الْمَعْنَى، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى، فَانْتَهَى وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ أَوْ انْبَهَرَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ:" أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ؟ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا ولَمْ يَقُلْ بَأْسًا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْيَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ، فَقُلْتُ الَّذِي قُلْتُ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا"، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ، وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12035 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ بَيْنَ يَدَيَّ خَشْفَةً، فَإِذَا أَنَا بِالْغُمَيْصَاءِ بِنْتِ مِلْحَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12035]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12036 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ"، قَالُوا: وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟، قَالَ:" يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12037 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6983 ، م: 2264
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6983 ، م: 2264
حدیث نمبر: 12038 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، قَالَ:" مَا هَذَا؟"، قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ أَنْ يُعَذِّبَ هَذَا نَفْسَهُ، فَأَمَرَهُ فَرَكِبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12038]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1865 ، م: 1642
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1865 ، م: 1642
حدیث نمبر: 12039 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12040 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اونٹ ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا اور چلنے سے عاجز تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ اگرچہ یہ قربانی ہی کا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2754 ، م: 1323
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2754 ، م: 1323