بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 87 از 109
حدیث نمبر: 13662 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، لِأَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قِيلَ لِأَنَسٍ : هَلْ شَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" مَا شَانَهُ اللَّهُ بِالشَّيْبِ، مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ إِلَّا سَبْعَ عَشْرَةَ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کے بال مبارک سفید ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے محفوظ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر اور داڑھی میں صرف سترہ یا اٹھارہ بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13662]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13663 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي لِيُحَنِّكَهُ فِي الْمِرْبَدِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ" يَسِمُ شِيَاهًا، أَحْسَبُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی کو گھٹی دلوانے کے لئے حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکری کے کان پر داغ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13663]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
حدیث نمبر: 13664 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَظُنُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنِّي قَدْ أَسْقَطْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، ووقفه لیس منه کما ظن، وإنما ھو من قتادۃ فیما سیذکرہ شعبه عنه بإثر الحدیث الآتي برقم:13900
الحكم: إسناده صحيح، ووقفه لیس منه کما ظن، وإنما ھو من قتادۃ فیما سیذکرہ شعبه عنه بإثر الحدیث الآتي برقم:13900
حدیث نمبر: 13665 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13665]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وھذا إسناد ضعیف لجهالة عبد اللہ بن دھقان
الحكم: حدیث صحيح، وھذا إسناد ضعیف لجهالة عبد اللہ بن دھقان
حدیث نمبر: 13666 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّهُمْ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، حَتَّى أَجْهَدُوهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، فَأَشْفَقَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا، إِلَّا وَجَدْتُ كُلَّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ يُلَاحَى، فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ عُمَرُ، أَوْ قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ قَطُّ، صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ". حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ. قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا: نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں؟ فرمایا جہنم میں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش او مطمئن ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7089، 7090 م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7089، 7090 م: 2359
حدیث نمبر: 13667 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ﴾ (المائدة: ۱۰۱)
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6362، 7089، م: 2359، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6362، 7089، م: 2359، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13668 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ، فَادْعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13668]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13669 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا، قَالَ: مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ، فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ، ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا، فَيَقُولُ: اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب بن ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ایک لکڑی تھی، ہم نے بہت کوشش کی کہ اس کے متعلق کسی سے کچھ معلوم ہوجائے لیکن ہمیں ایک آدمی بھی ایسا نہ ملا جو ہمیں اس کے متعلق کچھ بتاسکتا، اتفاقاً مجھے محمد بن مسلم صاحب مقصورہ نے بتایا کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف فرما تھے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے؟ میں نے ان سے یہ سوال نہ پوچھا تھا، میں نے عرض کیا بخدا! مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیوں رکھی گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے اور فرماتے تھے سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح لضعف مصعب بن ثابت وجهالة محمد بن مسلم بن السائب، وأما الأمر بتسویة الصفوف فقد سلف بأسانید صحيحة ، انظر: 12011
الحكم: إسناده صحيح لضعف مصعب بن ثابت وجهالة محمد بن مسلم بن السائب، وأما الأمر بتسویة الصفوف فقد سلف بأسانید صحيحة ، انظر: 12011
حدیث نمبر: 13670 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَحْدُو بِالرِّجَالِ، وَأَنْجَشَةَ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَحَدَا، فَأَعْنَقَتْ الْإِبِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَنْجَشَةُ" رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13670]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 13671 مسند احمد
غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13671]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن، م: 2822
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن، م: 2822
حدیث نمبر: 13672 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ ، عُثْمَانَ بْنِ يَزْذَوَيْهِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْذَوَيْهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ، قَالَ: فَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا، فَقَالَ أَنَسٌ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى، كَانَ يُخَفِّفُ فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکمل اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13672]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13673 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ يَعْنِي الْحَبَطِيُّ أَبُو هِشَامٍ ، هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ يَعْنِي الْحَبَطِيُّ أَبُو هِشَامٍ ، قَالَ: أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ عَادَ مَرِيضًا، فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الصَّحِيحُ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ، فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ؟ قَالَ: تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان بن ابی داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ تو اس تندرست آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13673]
حکم دارالسلام
صحیح لیغرہ، وھذا إسناد ضعیف لجهالة ھارون بن أبي داود
الحكم: صحیح لیغرہ، وھذا إسناد ضعیف لجهالة ھارون بن أبي داود
حدیث نمبر: 13674 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَقَوْلٍ لَا يُسْمَعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13675 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ قَطُّ، وَلَا قَالَ: لِمَ صَنَعْتَ كَذَا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفروحضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6038، م: 2309
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6038، م: 2309
حدیث نمبر: 13676 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، سَلَّامٌ ، عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً، مَا فِيهَا خُبْزٌ، وَلَا لَحْمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایسے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13676]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13677 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، صَدَقَةُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَرْبَعِينَ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13677]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، م: 258، وھذا إسناد ضعیف لضعف صدقة ابن موسی الدقیقی، ولكنه قد توبع
الحكم: حدیث صحیح، م: 258، وھذا إسناد ضعیف لضعف صدقة ابن موسی الدقیقی، ولكنه قد توبع
حدیث نمبر: 13678 مسند احمد
رَوْحٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ نَاسٌ النَّارَ، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَيُقَالُ: هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7450
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 13679 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7450 وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7450 وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13680 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ،" كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
حدیث نمبر: 13681 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمَا يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966