بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 30 از 109
حدیث نمبر: 12521 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ:" أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ، فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، کیونکہ میں ایسے عفیف اور صابر لوگ نہیں جانتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12521]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت ابن أسلم البناني
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت ابن أسلم البناني
حدیث نمبر: 12522 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ وَخَدَمٌ، جَائِينَ مِنْ عُرْسٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں، بچے اور خادم ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور فرمایا اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12522]
حکم دارالسلام
حديث صحيح،، خ: 3785، م: 2508، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ثابت، لكنه قد توبع، تابعه حماد بن سلمة فيما سيأتي برقم: 14043
الحكم: حديث صحيح،، خ: 3785، م: 2508، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ثابت، لكنه قد توبع، تابعه حماد بن سلمة فيما سيأتي برقم: 14043
حدیث نمبر: 12523 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَارْتَعُوا"، قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟، قَالَ:" حِلَقُ الذِّكْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جنت کے باغات سے گذرو تو اس کا پھل کھایا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا جنت کے باغات سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ذکر کے حلقے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12523]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت البناني
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت البناني
حدیث نمبر: 12524 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَمَّارٌ يَعْنِي أَبَا هَاشِمٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، َأخبَرَنَا عَمَّارٌ يَعْنِي أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الزَّعْفَرانيّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ بِلَالًا بَطَّأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَبَسَكَ؟"، فَقَالَ: مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ، وَالصَّبِيُّ يَبْكِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا، وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ، وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا، فَقَالَتْ: أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ، فَذَاكَ حَبَسَنِي، قَالَ:" فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں کچھ تاخیر کردی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا، وہ آٹا پیس رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا، میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آٹا پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ آٹا پیس لیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے بچے پر میں زیادہ نرمی کرسکتی ہوں، اس وجہ سے مجھے دیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اس پر رحم کھایا، اللہ تم پر رحم فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12524]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، عمار- وهو ابن عمارة - لم يدرك أنسا، وهذا الحديث مما تفرد به الإمام أحمد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، عمار- وهو ابن عمارة - لم يدرك أنسا، وهذا الحديث مما تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 12525 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى ، حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1110
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1110
حدیث نمبر: 12526 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقْبِلُ وَمَا عَلَى الْأَرْضِ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْهُ، فَمَا نَقُومُ لَهُ، لِمَا نَعْلَمُ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہماری نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12527 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ، وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ، وَيَظْهَرَ الزِّنا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا علاماتِ قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ علم اٹھالیا جائے گا، جہالت چھا جائے گی، شرابیں پی جائیں گی اور بدکاری کا دور دورہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 80، م: 2671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 80، م: 2671
حدیث نمبر: 12528 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبُو الْمُخَيْسِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُخَيْسِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ؟ قَالَ:" كَلَّا، إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً، غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12528]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المخيس اليشكري، والحكم بن عطية ضعيف يعبتر به
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المخيس اليشكري، والحكم بن عطية ضعيف يعبتر به
حدیث نمبر: 12529 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبِي ، نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ ، شَهِدَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ؟ قَالَ: ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ كَانَ مَاذَا؟ قَالَ: كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، قَالَ: سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: كَأَشَبِّ الرِّجَالِ، وَأَحْسَنِهِ، وَأَجْمَلِهِ، وَأَلْحَمِهِ، قَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ بِكَثْرَةٍ، فَحَمَلُوا عَلَيْنَا، حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا، وَفِي الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيُحَطِّمُنَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَلَّوْا، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى الْفَتْحَ، فَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِهِمْ أُسَارَى رَجُلًا رَجُلًا، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا لَئِنْ جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يُحَطِّمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ، فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، قال: فَأَمْسَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُبَايِعْهُ لِيُوفِيَ الْآخَرُ نَذْرَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْظُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ، وَجَعَلَ يَهَابُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه لَا يَصْنَعُ شَيْئًا يَأْتِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذْرِي! قَالَ:" لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ نَذْرَكَ" فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ علاء بن زیاد رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتنے سال کے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے؟ انہوں نے فرمایا چالیس سال کے، علاء نے پوچھا اس کے بعد کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ دس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں رہے، اس طرح ساٹھ سال پورے ہوگئے، اس کے بعد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس بلالیا، علاء نے پوچھا کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس عمر کے آدمی محسوس ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے ایک حسین و جمیل اور بھرے جسم والا نوجوان ہوتا ہے، علاء بن زیاد رحمہ اللہ نے پھر پوچھا ابوحمزہ! کیا آپ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں موجود تھا، مشرکین کثرت سے باہر نکلے اور ہم پر حملہ کردیا، یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کی پشت کے پیچھے دیکھا اور کفار میں ایک شخص تھا جو کہ ہم لوگوں پر حملہ کرتا تھا اور تلوار سے زخمی کردیتا تھا اور مارتا تھا یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری سے اتر پڑے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، فتح حاصل ہوتے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ایک ایک کر کے اسیران جنگ لائے جانے لگے اور وہ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے۔ ایک شخص نے جو کہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھا اس بات کی نذر مانی کہ اگر اس شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا جس نے اس دن ہم لوگوں کو زخمی کردیا تھا تو اس کو قتل کردوں گا۔ یہ بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے اور وہ شخص لایا گیا، جب اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے اللہ سے توبہ کرلی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیعت کرنے میں توقف فرمایا اس خیال سے کہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ اپنی نذر مکمل کرلے (یعنی اس شخص کو جلد از جلد قتل کرڈالے لیکن وہ صحابی اس بات کے انتظار میں تھے کہ آپ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے تو میں اس شخص کو قتل کروں اور میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ میں اس شخص کو قتل کردوں اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہے یعنی کسی طریقہ پر اس شخص کو قتل نہیں کرتے تو بالآخر مجبوراً آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو بیعت فرمالیا۔ اس پر صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری نذر کس طریقہ پر مکمل ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت تک جو رکا رہا اور میں نے اس شخص کو بیعت نہیں کیا تو اس خیال سے کہ تم اپنی نذر مکمل کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے مجھے اشارہ کیوں نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پیغمبر کے لئے آنکھ سے خفیہ اشارہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12530 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا، نخلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ، يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ، قَالَ: وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ، يكرم نبي الله صلى الله عليه و آله وسلم أن يمشي إلى جنبه، فمر نبي الله صلى الله عليه و آله وسلم بقبر، فقام حتى لم إليه بلال، فقال:" وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟" قَالَ: مَا أَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ:" صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ"، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغات میں قضاء حاجت کے لئے جارہے تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں چلنا بےادبی سمجھتے تھے، چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک قبر کے پاس سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہائے بلال! کیا تمہیں بھی وہ آواز سنائی دے رہی ہے جو میں سن رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12531 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ، قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا، فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ پردہ یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل نماز میں میرے سامنے آتی رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 376، وسيأتي مسند عائشة برقم: 24081، وهو فى البخاري: 2105 وفي مسلم: 2107 ولفظ البخاري: "أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قام على الباب فلم يدخله…." ففیه أنه قام علی الباب ولم یدخله ، وحدیث أنس ھذا یدل أنه أقره وصلي وأمره بنزعه بعد الصلاة ، قال الحافظ في الفتح :10/ 391 "ویمكن الجمع بأن الأول كانت تصاویره من ذات الأرواح، وھذا کانت تصاویره من غیرالحیوان....."
الحكم: إسناده صحيح، خ: 376، وسيأتي مسند عائشة برقم: 24081، وهو فى البخاري: 2105 وفي مسلم: 2107 ولفظ البخاري: "أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخله…." ف
حدیث نمبر: 12532 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَعَ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ ثابت: إِنِّي اشْتَكَيْتُ، فَقَالَ: أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ:" قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَأْسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت کے ساتھ گئے، ثابت نے اپنی بیماری کے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ منتر نہ بتاؤں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا یوں کہو اے اللہ! لوگوں کے رب! تکالیف کو دور کرنے والے! شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5742
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5742
حدیث نمبر: 12533 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر نماز عشاء اور نماز فجر سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نمازوں کا کیا ثواب ہے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12533]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد الأجل سنان أبى ربيعة الباهلي، وذكره ابن حبان فى الثقات
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد الأجل سنان أبى ربيعة الباهلي، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 12534 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، سِنَانٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سِنَانٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ غُصْنًا، فَنَفَضَهُ، فَلَمْ يَنْتَفِضْ، ثُمَّ نَفَضَهُ، فَلَمْ يَنْتَفِضْ، ثُمَّ نَفَضَهُ، فَانْتَفَضَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، تَنْفُضُ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی درخت کو پکڑ کر ہلایا لیکن اس کے پتے نہیں جھڑے، دوبارہ ہلانے پر بھی نہ جھڑے، البتہ تیسری مرتبہ ہلانے پر اس کے پتے جھڑنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر سے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12534]
حکم دارالسلام
إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل سنان بن ربيعة
الحكم: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل سنان بن ربيعة
حدیث نمبر: 12535 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ النُّمَيْرِيُّ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبَوَيْهِ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان آدمی جس کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1248، وهذا إسناد رجاله ثقات رجال الشيخين غیر عبدالملک النمیري، فلم نتبینه
الحكم: حديث صحيح، خ: 1248، وهذا إسناد رجاله ثقات رجال الشيخين غیر عبدالملک النمیري، فلم نتبینه
حدیث نمبر: 12536 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ، فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ، وَيَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ، وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، وَهُوَ يُنَادِي وَاثُبُورَاهُ، وَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَهُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: قَالَهَا مَرَّتَيْنِ حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا ثُبُورَاهُ، وَيَقُولُونَ: يَا ثُبُورَهُمْ، فَيُقَالُ لَهُمْ: لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا سورة الفرقان آية 14،" قَالَ عَفَّانُ:" وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ، وَهُمْ يَقُولُونَ: يَا ثُبُورَهُمْ"، قَالَ عَفَّانُ:" حَاجِبَيْهِ".
حدیث نمبر: 12537 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12538 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ، أَنْ لَا تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1743، وانظر: 12220
الحكم: إسناده صحيح، م: 1743، وانظر: 12220
حدیث نمبر: 12539 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ، عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2611
الحكم: إسناده صحيح، م: 2611
حدیث نمبر: 12540 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ، وَيَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُونَ؟" قَالُوا: يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ کچھ حبشی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رقص کرتے ہوئے یہ گا رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیک آدمی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیک آدمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح