بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12529
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12529
حدیث نمبر: 12529 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبِي ، نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ ، شَهِدَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ؟ قَالَ: ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ كَانَ مَاذَا؟ قَالَ: كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، قَالَ: سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: كَأَشَبِّ الرِّجَالِ، وَأَحْسَنِهِ، وَأَجْمَلِهِ، وَأَلْحَمِهِ، قَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ بِكَثْرَةٍ، فَحَمَلُوا عَلَيْنَا، حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا، وَفِي الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيُحَطِّمُنَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَلَّوْا، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى الْفَتْحَ، فَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِهِمْ أُسَارَى رَجُلًا رَجُلًا، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا لَئِنْ جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يُحَطِّمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ، فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، قال: فَأَمْسَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُبَايِعْهُ لِيُوفِيَ الْآخَرُ نَذْرَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْظُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ، وَجَعَلَ يَهَابُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه لَا يَصْنَعُ شَيْئًا يَأْتِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذْرِي! قَالَ:" لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ نَذْرَكَ" فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ علاء بن زیاد رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتنے سال کے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے؟ انہوں نے فرمایا چالیس سال کے، علاء نے پوچھا اس کے بعد کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ دس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں رہے، اس طرح ساٹھ سال پورے ہوگئے، اس کے بعد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس بلالیا، علاء نے پوچھا کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس عمر کے آدمی محسوس ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے ایک حسین و جمیل اور بھرے جسم والا نوجوان ہوتا ہے، علاء بن زیاد رحمہ اللہ نے پھر پوچھا ابوحمزہ! کیا آپ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں موجود تھا، مشرکین کثرت سے باہر نکلے اور ہم پر حملہ کردیا، یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کی پشت کے پیچھے دیکھا اور کفار میں ایک شخص تھا جو کہ ہم لوگوں پر حملہ کرتا تھا اور تلوار سے زخمی کردیتا تھا اور مارتا تھا یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری سے اتر پڑے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، فتح حاصل ہوتے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ایک ایک کر کے اسیران جنگ لائے جانے لگے اور وہ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے۔ ایک شخص نے جو کہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھا اس بات کی نذر مانی کہ اگر اس شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا جس نے اس دن ہم لوگوں کو زخمی کردیا تھا تو اس کو قتل کردوں گا۔ یہ بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے اور وہ شخص لایا گیا، جب اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے اللہ سے توبہ کرلی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیعت کرنے میں توقف فرمایا اس خیال سے کہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ اپنی نذر مکمل کرلے (یعنی اس شخص کو جلد از جلد قتل کرڈالے لیکن وہ صحابی اس بات کے انتظار میں تھے کہ آپ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے تو میں اس شخص کو قتل کروں اور میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ میں اس شخص کو قتل کردوں اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہے یعنی کسی طریقہ پر اس شخص کو قتل نہیں کرتے تو بالآخر مجبوراً آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو بیعت فرمالیا۔ اس پر صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری نذر کس طریقہ پر مکمل ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت تک جو رکا رہا اور میں نے اس شخص کو بیعت نہیں کیا تو اس خیال سے کہ تم اپنی نذر مکمل کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے مجھے اشارہ کیوں نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پیغمبر کے لئے آنکھ سے خفیہ اشارہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (12528) باب پر واپس اگلی حدیث (12530) →