بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12530
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12530
حدیث نمبر: 12530 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا، نخلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ، يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ، قَالَ: وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ، يكرم نبي الله صلى الله عليه و آله وسلم أن يمشي إلى جنبه، فمر نبي الله صلى الله عليه و آله وسلم بقبر، فقام حتى لم إليه بلال، فقال:" وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟" قَالَ: مَا أَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ:" صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ"، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغات میں قضاء حاجت کے لئے جارہے تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں چلنا بےادبی سمجھتے تھے، چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک قبر کے پاس سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہائے بلال! کیا تمہیں بھی وہ آواز سنائی دے رہی ہے جو میں سن رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (12529) باب پر واپس اگلی حدیث (12531) →