بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 93 از 109
حدیث نمبر: 13782 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَنِ الدَّجَّالِ، فقال: كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
حدیث نمبر: 13783 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَعَثَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعِي بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ، فَلَمْ أَجِدْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، إِذْ هُوَ عِنْدَ مَوْلًى لَهُ قَدْ صَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا، أَوْ قَالَ: ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ، فَدَعَانِي فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ" يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، فَجَعَلْتُ أَدَعُهُ قِبَلَهُ، فَلَمَّا تَغَدَّى وَرَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَقْسِمُ حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلالیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5420، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5420، م: 2041
حدیث نمبر: 13784 مسند احمد
الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، الْأَعْمَشِ ، شُعْبَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَجْهَرُوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1".
حدیث نمبر: 13785 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3770، م: 2446
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3770، م: 2446
حدیث نمبر: 13786 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ، وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَي عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ؟ فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن قیام فرمایا اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی، میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی، اس میں کوئی روٹی اور گوشت نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجوریں، پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا، مسلمان آپس میں باتیں کرنے لگے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی امہات المومنین میں سے ہوں گی یا باندیوں میں سے؟ پھر آپس میں خود ہی کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہوں گی اور اگر پردہ نہ گرایا تو یہ باندیوں میں سے ہوں گی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب کوچ فرمایا تو پیچھے سے ان کے لئے سواری پر چڑھنے میں مدد کی اور لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13786]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5085
حدیث نمبر: 13787 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ، فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ، وَإِلَّا، فَسَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ لَهَا:" هَبِلْتِ؟! أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ؟ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13787]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، كسابقه، خ: 6567
الحكم: إسناده صحيح، كسابقه، خ: 6567
حدیث نمبر: 13788 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَكْفِي أَحَدَكُمْ مُدٌّ فِي الْوُضُوءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے وضو میں ایک مد پانی کافی ہوجانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13788]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13789 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13789]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الواسطة بين الأعمش و أنس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الواسطة بين الأعمش و أنس
حدیث نمبر: 13790 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ، فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنَةِ قَرَظَةَ، حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ، رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ، فَمَاتَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنت ملحان کے گھر میں ٹیک لگائی، سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آئی جو اس سبز سمندر پر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے سوار ہو کر نکلیں گے اور وہ ایسے محسوس ہوں گے کہ گویا تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعاء فرما دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حق میں دعاء فرما دی کہ اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما۔ پھر ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا اور وہ اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپسی پر جب ساحل سمندر پر وہ اپنے جانور پر سوار ہوئیں تو وہ بدک گئی اور وہ اس سے گر کر فوت ہوگئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2877، م: 1912، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2877، م: 1912، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 13791 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ، فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13792 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَتْ لَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہے، اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ، وان محمداً عبدہ، و رسولہ، تو جنت کے آٹھوں دروازے اس کے لئے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13792]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف زيد العمي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف زيد العمي
حدیث نمبر: 13793 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادٌ بْنِ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَبْقَى مِنَ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا شَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں زائد جگہ بچ جائے گی تو اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13793]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7384معلقا، م: 2848
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7384معلقا، م: 2848
حدیث نمبر: 13794 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ أَحَدٌ، فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ، فَجَعَلَ يَصْعَدُ عَلَى مَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ، فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ التُّرَابَ، فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا، قَالَ: فَكُنَّا نَسْمَعُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13794]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الإمام أحمد: يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الإمام أحمد: يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير
حدیث نمبر: 13795 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، عُمَارَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ، فَوَضَعَ وَاحِدَةً، ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ آدَمَ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَذَاكَ أَمَلُهُ"، الَّتِي رَمَى بِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین کنکریاں لیں اور ان میں سے اسے ایک کو، پھر دوسری کو، پھر تیسری کو، زمین پر رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امیدیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13795]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه ، لكن حديثه حسن فى المتابعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه ، لكن حديثه حسن فى المتابعة
حدیث نمبر: 13796 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَارَةُ ، زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ، يَقُولُ: تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يَرْغَبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ، إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تتَبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی ساتھی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصے میں آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ابن رواحہ کو تو دیکھئے، یہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے موڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر اپنی رحمتیں برسائے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13796]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمارة ابن زاذان وزياد بن عبدالله النميري متكلم فيهما، وقد تفرد بهذا الحديث بهذه السياقة، ولم يتابعهما عليه أحد
الحكم: إسناده ضعيف، عمارة ابن زاذان وزياد بن عبدالله النميري متكلم فيهما، وقد تفرد بهذا الحديث بهذه السياقة، ولم يتابعهما عليه أحد
حدیث نمبر: 13797 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَارَةُ ، ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَهُ؟ وَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ طِيبًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، بخدا! میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه، لكن حديثه حسن فى المتابعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه، لكن حديثه حسن فى المتابعة
حدیث نمبر: 13798 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، يَا مَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوعیاش زید بن صامت کے پاس سے گذرتے ہوئے انہیں دورانِ نماز اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والے اور بڑے جلال اور عزت والے " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہوں نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13798]
حکم دارالسلام
احديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند غير المصنف، وعبدالعزيز بن مسلم روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى « الثقات »
الحكم: احديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند غير المصنف، وعبدالعزيز بن مسلم روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى « الثقات »
حدیث نمبر: 13799 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَإِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوال شمس سے قبل سفر پر روانہ ہوتے تو نماز ظہر کو نماز عصر تک مؤخر کردیتے، پھر اتر کر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے زوال کا وقت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے نماز ظہر پڑھتے، پھر سوار ہوتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13799]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1112، م:704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1112، م:704
حدیث نمبر: 13800 مسند احمد
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمُ الطَّالَقَانِيُّ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمُ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنُ الرَّمْيِ، فَكَانَ إِذَا رَمَى، أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ایک ہی ڈھال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2902، م: 1811
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2902، م: 1811
حدیث نمبر: 13801 مسند احمد
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916