سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ، وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَي عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ؟ فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن قیام فرمایا اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی، میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی، اس میں کوئی روٹی اور گوشت نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجوریں، پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا، مسلمان آپس میں باتیں کرنے لگے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی امہات المومنین میں سے ہوں گی یا باندیوں میں سے؟ پھر آپس میں خود ہی کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہوں گی اور اگر پردہ نہ گرایا تو یہ باندیوں میں سے ہوں گی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب کوچ فرمایا تو پیچھے سے ان کے لئے سواری پر چڑھنے میں مدد کی اور لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13786]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5085