بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13783
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13783
حدیث نمبر: 13783 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَعَثَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعِي بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ، فَلَمْ أَجِدْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، إِذْ هُوَ عِنْدَ مَوْلًى لَهُ قَدْ صَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا، أَوْ قَالَ: ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ، فَدَعَانِي فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ" يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، فَجَعَلْتُ أَدَعُهُ قِبَلَهُ، فَلَمَّا تَغَدَّى وَرَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَقْسِمُ حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلالیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5420، م: 2041
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5420، م: 2041
← پچھلی حدیث (13782) باب پر واپس اگلی حدیث (13784) →