عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَارَةُ ، ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَهُ؟ وَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ طِيبًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، بخدا! میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه، لكن حديثه حسن فى المتابعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه، لكن حديثه حسن فى المتابعة