بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 106 از 109
حدیث نمبر: 14042 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فُلَانُ، هَذِهِ فُلَانَةُ زَوْجَتِي، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَظُنَّ بِكَ؟ قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں جس شخص کے ساتھ بھی ایسا گمان کروں، آپ کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2174
الحكم: إسناده صحيح، م: 2174
حدیث نمبر: 14043 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَقْبَلَهُ ذَاتَ يَوْمٍ صِبْيَانُ الْأَنْصَارِ وَالْإِمَاءُ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ باندیاں اور بچے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (انہیں سلام کیا اور) فرمایا اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3785، م: 2508
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3785، م: 2508
حدیث نمبر: 14044 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَادٍ جَيِّدُ الْحُدَاءِ، وَكَانَ حَادِيَ الرِّجَالِ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَدَا، أَعْنَقَتْ الْإِبِلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 14045 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ،" فَقَامَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا، لَكِنْ أُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ایک گروہ نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انفرادی اعمال کے متعلق پوچھا پھر ان میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، ح: 5063
الحكم: إسناده صحيح، ح: 5063
حدیث نمبر: 14046 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَالَ: يَا أُمَّ فُلَانٍ، انْظُرِي إِلَى أَيِّ الطَّرِيقِ شِئْتِ، فَقَامَ مَعَهَا يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2326
الحكم: إسناده صحيح، م: 2326
حدیث نمبر: 14047 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ، وَحَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ، وَحَتَّى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَتَمُرُّ بِالْنَّعْلِ فَتَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَتَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لِهَذِهِ مَرَّةً رَجُلٌ"، ذَكَرَهُ حَمَّادٌ مَرَّةً هَكَذَا، وَقَدْ ذَكَرَهُ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَشُكُّ فِيهِ، وَقَدْ قَالَ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْسِبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے تھے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک ایسا نہ ہوجائے کہ آسمان سے بارش ہو اور زمین سے پیداوار نہ ہو اور پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہو اور ایک عورت اپنے شوہر کے پاس سے گذرے گی اور وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ کبھی اس عورت کا بھی کوئی شوہر ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14047]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14048 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَقَالَ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14048]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2419
الحكم: إسناده صحيح، م: 2419
حدیث نمبر: 14049 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْكُفَّارِ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ؟ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلَ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ، انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یعنی طلقاء انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت فرمائی اور خوب فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 14050 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيَ يُوسُفُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَطْرَ الْحُسْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت یوسف علیہ السلام کو نصف حسن دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14051 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، كَانُوا" يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ ب: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2"، إِلَّا أَنَّ حُمَيْدًا لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حدیث نمبر: 14052 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا، وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں اور وہاں " ابن طاب " نامی کھجوریں ہمارے سامنے پیش کی گئیں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ (رافع کے لفظ سے) دنیا میں رفعت (عقبہ کے لفظ سے) آخرت کا بہترین انجام ہمارے لئے ہی ہے اور (طاب کے لفظ سے) ہمارا دین پاکیزہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 277
الحكم: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 14053 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اسْتَوُوا، اسْتَوُوا، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي، كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 14054 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: اسْتَوُوا وَتَرَاصُّوا.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 14055 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يَخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَمَا لِي وَلَا لِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبِطُ بِلَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گذر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14056 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا رَهِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ:" مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟" فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمَّا أَرْهَقُوهُ أَيْضًا، قَالَ:" مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنِّي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟" حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِهِ:" مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکین نے غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہجوم کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات انصاری اور دو قریشی صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں مجھ سے کون دور کرے گا اور وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا؟ ایک انصاری نے آگے بڑھ کر قتال شروع کیا، حتیٰ کہ وہ شہید ہوگئے اسی طرح ایک ایک کر کے ساتوں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے قریشی ساتھیوں سے فرمایا کہ ہم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة ثابت، م: 1789 ، وأما متابعة على بن زيد- وهو ابن جدعان- فضعيف
الحكم: إسناده صحيح من جهة ثابت، م: 1789 ، وأما متابعة على بن زيد- وهو ابن جدعان- فضعيف
حدیث نمبر: 14057 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَا السِّعْرُ، سَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہوں کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14058 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ يَتَتَرَّسُ بِهِ، وَكَانَ رَامِيًا، وَكَانَ إِذَا رَمَى، رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ يَنْظُرُ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ، وَيَرْفَعُ أَبُو طَلْحَةَ صَدْرَهُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَسُوقُ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: إِنِّي جَلْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَجِّهْنِي فِي حَوَائِجِكَ، وَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے کھڑے تیر اندازی کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے انہیں ڈھال بنائے ہوئے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ بلند کر کے عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے سے پہلے ہے اور وہ اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے رکھتے تھے اور کہتے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا جسم سخت ہے، آپ مجھے اپنے کام کے لئے بھیجئے اور مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3811، م: 1811
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3811، م: 1811
حدیث نمبر: 14059 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ بِمِنًى، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شِقَّ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ الْحَجَّامُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا، وَكَانَ يَجِيءُ فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى نِطْعٍ، وَكَانَ مِعْرَاقًا، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ وَتَجْعَلُهُ فِي قَارُورَةٍ لَهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَجْعَلِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَرَقُكَ أُرِيدُ أَنْ أَدُوفَ بِهِ طِيبِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں جا کر چمڑے کے ایک بستر پر آرام فرماتے تھے، اس پر پسینہ بہت آتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پسینہ ایک شیشی میں جمع کرنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوگئے اور فرمایا اے ام سلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ کے پسینے کو اپنی خوشبو میں شامل کروں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ- الشطر الثاني بنحوه-: 6281، م: 2331
الحكم: إسناده صحيح، خ- الشطر الثاني بنحوه-: 6281، م: 2331
حدیث نمبر: 14060 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2، قَالَ: قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ، فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ:" يَا أَبَا عَمْرٍو، مَا شَأْنُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَا يُرَى؟! اشْتَكَى؟" فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ لَهُ بِمَرَضٍ، وَإِنَّهُ لَجَارِي، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ، فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ مِنْ أَشَدِّكُمْ رَفْعَ صَوْتٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَقَدْ هَلَكْتُ، أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
حدیث نمبر: 14061 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، وَحُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَحُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ:" اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، وَارْتَدُّوا عَنِ الإسلام، فَأُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ"، قَالَ أَنَسٌ: قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الْأَرْضَ بِفِيهِ، حَتَّى مَاتُوا، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ، حَتَّى مَاتُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5685، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5685، م: 1671