عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ يَتَتَرَّسُ بِهِ، وَكَانَ رَامِيًا، وَكَانَ إِذَا رَمَى، رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ يَنْظُرُ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ، وَيَرْفَعُ أَبُو طَلْحَةَ صَدْرَهُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَسُوقُ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: إِنِّي جَلْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَجِّهْنِي فِي حَوَائِجِكَ، وَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے کھڑے تیر اندازی کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے انہیں ڈھال بنائے ہوئے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ بلند کر کے عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے سے پہلے ہے اور وہ اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے رکھتے تھے اور کہتے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا جسم سخت ہے، آپ مجھے اپنے کام کے لئے بھیجئے اور مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3811، م: 1811
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3811، م: 1811