بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 67 از 109
حدیث نمبر: 13262 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا، قَالَ:" لِيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13262]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وھذا إسناده حسن، خ: 597، م:684
الحكم: حديث صحيح، وھذا إسناده حسن، خ: 597، م:684
حدیث نمبر: 13263 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ، وَفِي الْعَنْفَقَةِ، وَفِي الرَّأْسِ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ، شَيْئًا لَا يَكَادُ يُرَى، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں تھوڑی کے اوپر بالوں میں، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے، البتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مہندی کا خضاب کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2341، وانظر: 12994
الحكم: إسناده صحيح، م: 2341، وانظر: 12994
حدیث نمبر: 13264 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، جَعْفَرُ بْنُ مَعْبَدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَعْبَدٍ ابْنُ أَخِي حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: ذَهَبْتُ مَعَ حُمَيْدٍ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَايَعَهُ النَّاسُ، أَوْ كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُنَا، أَنْ يَقُولَ لَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ" قال: عبد الله قَالَ أَبِي: لَيْسَ هُوَ حُمَيْدًٌا الطَّوِيلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں " حسبِ طاقت " کی قید لگا دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13264]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين لأجل جعفر بن معبد، روى عنه اثنان، وقال أبو حاتم: صالح، وذكره ابن حبان في الثقات
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين لأجل جعفر بن معبد، روى عنه اثنان، وقال أبو حاتم: صالح، وذكره ابن حبان في الثقات
حدیث نمبر: 13265 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4090 م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4090 م: 677
حدیث نمبر: 13266 مسند احمد
يُونُسُ ، حَزْمٌ ، الْحَسَنَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَزْمٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ لِبَعْضِ مَخَارِجِهِ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَانْطَلَقُوا يَسِيرُونَ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَلَمْ يَجِدْ الْقَوْمُ مَاءً يَتَوَضَّئُونَ بِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا نَجِدُ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَرَأَى فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ كَرَاهِيَةَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ يَسِيرٍ فَأَخَذَه نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ مَدَّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَةَ عَلَى الْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ:" هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا" فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ حَتَّى أَبْلَغُوا فِيمَا يُرِيدُونَ، قَالَ: سُئِلَ كَمْ بَلَغُوا؟ قَالَ سَبْعِينَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے، نماز کا وقت قریب آگیا، لوگوں نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہیں ملا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں وضو کے لئے پانی نہیں مل رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے، ایک آدمی گیا اور ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے لے کر وضو فرمانے لگے پھر اپنی چار انگلیاں اس پیالے میں ڈال دیں، لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دیا، لوگ اس سے وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی تعداد پوچھی تو انہوں نے فرمایا ستر یا اسی کے قریب۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3574 م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3574 م: 2279
حدیث نمبر: 13267 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّي ، أَنَسًا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ:" قَلَّ لَيْلَةٌ تَأْتِي عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَرَى فِيهَا خَلِيلِي صلى الله عليه و آله وسلم"، وَأَنَسٌ يَقُولُ ذَلِكَ وَتَدْمَعُ عَيْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بہت کم کوئی رات ایسی گذرتی ہے جس میں مجھے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوتی ہو، یہ کہتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13268 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَتْ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمَاعَتِهِمْ، فَقَالُوا: إِلَى مَتَى نَنْزَعُ مِنْ هَذِهِ الْآبَارِ؟ فَلَوْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا اللَّهَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ عُيُونًا، فَجَاءُوا بِجَمَاعَتِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ:" مَرْحَبًا وَأَهْلًا، لَقَدْ جَاءَ بِكُمْ إِلَيْنَا حَاجَةٌ" قَالُوا: إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فإِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُوتِيتُمُوهُ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ" فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا: الدُّنْيَا تُرِيدُونَ؟ فَاطْلُبُوا الْآخِرَةَ، فَقَالُوا: بِجَمَاعَتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَغْفِرَ لَنَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْلَادِنَا مِنْ غَيْرِنَا، قَالَ:" وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَوَالِينَا، قَالَ:" وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک کنوؤں سے پانی کھینچ کر لاتے رہیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلتے ہیں کہ وہ اللہ سے ہمارے لئے دعاء کردیں کہ ان پہاڑوں سے چشمے جاری کر دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہماری دوسری اولاد کیا ہم میں شامل نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی دعاء میں شامل کرلیا، پھر انہوں نے اپنے موالی کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی شامل کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13268]
حکم دارالسلام
إسناده قوی، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، وانظر: 12414
الحكم: إسناده قوی، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، وانظر: 12414
حدیث نمبر: 13269 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي، فَقَالَ:" قُومُوا أُصَلِّي بِكُمْ" فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ؟ قَالَ: عَلَى يَمِينِهِ، وَالنِّسْوَةَ خَلْفَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے، والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا دائیں جانب اور عورتوں کو ان کے پیچھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 660
الحكم: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13270 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، أُمَّ يَحْيَى ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ يَحْيَى ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ سب مرغ کی کلغی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13270]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم يحیى وضعف عبدالله العمري، وسلفت قصة وفاة ابن أبي طلحة دون قصة الصلاة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم يحیى وضعف عبدالله العمري، وسلفت قصة وفاة ابن أبي طلحة دون قصة الصلاة
حدیث نمبر: 13271 مسند احمد
شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَعَهُ وَأُمُّ سُلَيْمٍ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ مِنْ خَلْفِنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، میں اور ام سلیم رضی اللہ عنہ ان کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب اور ام سلیم کو ہمارے پیچھے کھڑا کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 660
الحكم: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13272 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 13273 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ"، أُرَاهُ قَالَ: الْأُولَى، شَكَّ أَبُو قَطَنٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1302، م: 926
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1302، م: 926
حدیث نمبر: 13274 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، پھر اسے ترک فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13275 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، قَالَ: إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَسْقِيهِمْ، لَأَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَمَرُونِي، فَكَفَأْتُهَا، وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا، حَتَّى كَادَتْ السِّكَكُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِيحِهَا، قَالَ: أَنَسٌ : وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا، أَفَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَبِيعَهُ، فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الثُّرُوبُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا"، وَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن شراب حرام ہوئی میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ آدمی کو پلا رہا تھے، جب اس کی حرمت معلوم ہوئی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے برتن میں جتنی جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، بخدا! دوسرے لوگوں نے بھی اپنے برتنوں کی شراب انڈیل دی، حتیٰ کہ مدینہ کی گلیوں سے شراب کی بدبو آنے لگی اور ان کی اس وقت شراب بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی بارگاِ نبوت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میرے پاس ایک یتیم کا مال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اسے بیچ کر اس یتیم کو اس کا مال لوٹا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو وہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب کو بیچنے کی اجازت نہیں دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5580، م: 1980
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5580، م: 1980
حدیث نمبر: 13276 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلَهُ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ، فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَاء وهاء وَلَا خِلَابَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی " جس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی " خریدو فروخت کیا کرتا تھا (اور دھوکہ کھاتا تھا) اس کے اہل خانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں شخص پر خریدو فروخت کی پابندی لگا دیں کیونکہ اس کی عقل کمزور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر اسے خریدو فروخت کرنے سے منع کردیا، وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! میں اس کام سے نہیں رک سکتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم خریدو فروخت کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر معاملہ کرتے وقت یہ کہہ دیا کرو کہ اس معاملے میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13276]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح، وھذا إسناد قوی
الحكم: حدیث صحیح، وھذا إسناد قوی
حدیث نمبر: 13277 مسند احمد
حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَسَنٌ ، السُّدِّيِّ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنِ الِانْصِرَافِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرف سے واپس جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13277]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 708
الحكم: إسناده حسن، م: 708
حدیث نمبر: 13278 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةُ ، الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا"، قَالُوا: مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ. وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي، وَمِنْ خَلْفِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ اور لوگو! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13278]
حکم دارالسلام
إسناده صحیح، خ: 419، م: 426
الحكم: إسناده صحیح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 13279 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الإسلام أَرْبَعِينَ سَنَةً، إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ: الْجُنُونَ، وَالْجُذَامَ، وَالْبَرَصَ، فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً، لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ، فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ، رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ، فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً، أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ، قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ، وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ، وَشَفَعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اسلام کی حالت میں چالیس برس کی عمر مل جائے، اللہ اس سے تین قسم کی بیماریاں جنون، کوڑھ، چیچک کو دور فرما دیتے ہیں، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس پر حساب کتاب میں آسانی فرما دیتے ہیں، جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطاء فرماتا ہے جو اسے محبوب ہے، جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اور سارے آسمانوں والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول فرما لیتا ہے اور اس کے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے اور جب نوے سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اسے زمین میں " اسیر اللہ " کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کے حق میں اس کی سفارش قبول ہوتی ہے۔ فائدہ: محدثین نے اس حدیث کو " موضوع " قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13279]
حکم دارالسلام
إسناده ضعیف جدا، يوسف بن أبي ذرة، قال ابن معين: «لا شی» ، و قال ابن حبان في «المجروحين» «منكر الحديث جدا...... »
الحكم: إسناده ضعیف جدا، يوسف بن أبي ذرة، قال ابن معين: «لا شی» ، و قال ابن حبان في «المجروحين» «منكر الحديث جدا...... »
حدیث نمبر: 13280 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 13281 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، مِسْعَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَا بِهَا لِأُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 200
الحكم: إسناده صحيح، م: 200