يُونُسُ ، حَزْمٌ ، الْحَسَنَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَزْمٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ لِبَعْضِ مَخَارِجِهِ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَانْطَلَقُوا يَسِيرُونَ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَلَمْ يَجِدْ الْقَوْمُ مَاءً يَتَوَضَّئُونَ بِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا نَجِدُ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَرَأَى فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ كَرَاهِيَةَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ يَسِيرٍ فَأَخَذَه نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ مَدَّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَةَ عَلَى الْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ:" هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا" فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ حَتَّى أَبْلَغُوا فِيمَا يُرِيدُونَ، قَالَ: سُئِلَ كَمْ بَلَغُوا؟ قَالَ سَبْعِينَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے، نماز کا وقت قریب آگیا، لوگوں نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہیں ملا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں وضو کے لئے پانی نہیں مل رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے، ایک آدمی گیا اور ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے لے کر وضو فرمانے لگے پھر اپنی چار انگلیاں اس پیالے میں ڈال دیں، لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دیا، لوگ اس سے وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی تعداد پوچھی تو انہوں نے فرمایا ستر یا اسی کے قریب۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3574 م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3574 م: 2279