بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 58 از 109
حدیث نمبر: 13082 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهَ اللَّهَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13082]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 148.
الحكم: إسناده صحيح، م: 148.
حدیث نمبر: 13083 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفَيْهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ وَجْهِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ؟!" فَأَنْزَلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ.
حدیث نمبر: 13084 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُيُوفُهُمْ مِنْ دِمَائِنَا أَوْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا أَخَذْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059، وانظر: 12952.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059، وانظر: 12952.
حدیث نمبر: 13085 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ: غِبْتُ مِنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالًا لِلْمُشْرِكِينَ، لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَصْحَابَهُ، وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ لِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: بِبَغْدَادَ بِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَنَا مَعَكَ، قَالَ سَعْدٌ: فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، قَالَ: فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23.
حدیث نمبر: 13086 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ ناسٍ قَالَ:" أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13086]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يحيى بن أبى كثير لم يسمع من أنس، وانظر الحديث الموصول، برقم: 12406.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يحيى بن أبى كثير لم يسمع من أنس، وانظر الحديث الموصول، برقم: 12406.
حدیث نمبر: 13087 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، ومُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، ومُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ:" قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163.
حدیث نمبر: 13088 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُوَاصِلُوا" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
حدیث نمبر: 13089 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7134.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7134.
حدیث نمبر: 13090 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْحَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323.
حدیث نمبر: 13091 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِيَعْتَدِلْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 822، م: 493.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493.
حدیث نمبر: 13092 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، كَثِيرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ؟" قَالَ: حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان تو اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13092]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2639.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2639.
حدیث نمبر: 13093 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ:" يَا بِلَالُ، قَدْ بَلَّغْتَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ"، فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؟ قَالَ:" مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ، رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّتُورُ، قَالَ: فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ، وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ، فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو ایک موقع پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، دو مرتبہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا بلال! تم نے پیغام پہنچا دیا، جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پلٹ کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں لوگوں کو نماز کون پڑھائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے جا کر کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر کا پردہ ہٹایا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سفید کاغذ ہو اور اس پر چادر ڈال دی گئی ہو، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے اور یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے تشریف لانا چاہتے ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ کھڑے رہیں اور نماز مکمل کریں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13093]
حکم دارالسلام
إسناده ضعیف، سفیان بن حسین ضعیف فی الزهري، ثقة في غيره، وقد تفرد بالشطر الأول من الحديث عن الزهري، وأما الشطر الثاني فصحیح
الحكم: إسناده ضعیف، سفیان بن حسین ضعیف فی الزهري، ثقة في غيره، وقد تفرد بالشطر الأول من الحديث عن الزهري، وأما الشطر الثاني فصحیح
حدیث نمبر: 13094 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" دُورُ بَنِي النَّجَّارِ" قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ؟" قالوا: نعم يا رسول الله، قال:" دُورُ بني عبدِ الأَشهلَ، أَلاَ أُخبِرُكم الَّذينَ يَلُونَهم؟" قَالُوا: نعم يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" دُورُ بَنِي الْحَارِثِ ابْنِ الْخَزْرَجِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ" قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ:" فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے؟ بنو نجار کا گھر، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنو عبدالاشہل کا، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنو حارث بن خزرج کا پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنی ساعدہ کا پھر بلند آواز کر کے فرمایا انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5300، م:2511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5300، م:2511
حدیث نمبر: 13095 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:81، م:2671
الحكم: إسناده صحيح، خ:81، م:2671
حدیث نمبر: 13096 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ، أَوْ سَائِقٌ، قَالَ: فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أَنْجَشَةُ، وَيْحَكَ، ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ"، قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا فِي الْحَدِيثِ مِنْ نَحْوِ قَوْلِهِ:" وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6209، م:2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6209، م:2323
حدیث نمبر: 13097 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَرَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، رَوْحٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، يَزِيدُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ رَوْحٌ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، وَقَالَ يَزِيدُ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، أَوْ يَشْرَبَ بِشِمَالِهِ"، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِ: وَيَشْرَبَ بِشِمَالِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13097]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن دهقان.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن دهقان.
حدیث نمبر: 13098 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13098]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، كسابقه.
الحكم: صحيح لغيره، كسابقه.
حدیث نمبر: 13099 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ ذَلِكَ صَدَاقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365.
حدیث نمبر: 13100 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، حَمَّادٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو قَطَنٍ ، قَالَا: حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو قَطَنٍ: مُتَعَمِّدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 108، م: فى المقدمة: 2.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 108، م: فى المقدمة: 2.
حدیث نمبر: 13101 مسند احمد
محمد بن الحسن الواسطي وَهُوَ الْمُزَنِيُّ ، مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا محمد بن الحسن الواسطي وَهُوَ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ، وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا، فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیۃً کجھوریں آئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے ایک تھیلی سے تقسیم کرنے لگے، میں اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قاصد تھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فارغ ہوگئے اور خود اکڑوں بیٹھ کر جلدی جلدی کھجوریں تناول فرمانے لگے جس سے مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بھوک کا اندازہ ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13101]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2044.
الحكم: إسناده قوي، م: 2044.