بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13084
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13084
حدیث نمبر: 13084 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُيُوفُهُمْ مِنْ دِمَائِنَا أَوْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا أَخَذْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059، وانظر: 12952.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059، وانظر: 12952.
← پچھلی حدیث (13083) باب پر واپس اگلی حدیث (13085) →