محمد بن الحسن الواسطي وَهُوَ الْمُزَنِيُّ ، مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا محمد بن الحسن الواسطي وَهُوَ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ، وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا، فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیۃً کجھوریں آئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے ایک تھیلی سے تقسیم کرنے لگے، میں اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قاصد تھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فارغ ہوگئے اور خود اکڑوں بیٹھ کر جلدی جلدی کھجوریں تناول فرمانے لگے جس سے مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بھوک کا اندازہ ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13101]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2044.
الحكم: إسناده قوي، م: 2044.