بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 103 از 109
حدیث نمبر: 13982 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ابْنَةَ حُيَيٍّ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 13983 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ، قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ، حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ إِلَّا قَرِيبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مؤذن جب اذان دے چکتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جلدی سے ستونوں کی طرف لپکتے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آتے اور وہ مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں ہی پڑھ رہے ہوتے تھے اور اذان اور اقامت کے درمیان بہت تھوڑا وقفہ ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 625، م: 836
الحكم: إسناده صحيح، خ: 625، م: 836
حدیث نمبر: 13984 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ، فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ، ثُمَّ لَبَّى، قَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا"، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ: وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهُ" لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں حج اور عمرے کو جمع کرنا چاہتا ہوں اس لئے جس شخص کا یہی ارادہ ہو تو وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے تلبیہ پڑھتے ہوئے کہا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً " سالم کہتے ہیں کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں سے لگ رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی حج اور عمرے دونوں کا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13985 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، لَوْ عَاشَ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا"، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ، عَنْ يَمِينِي، أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں، ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، اگر وہ زندہ ہوتے تو صدیق و نبی ہوتے، میں نے پوچھا کہ نماز پڑھ کر میں دائیں جانب سے واپس جایا کروں یا بائیں جانب سے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13985]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 708 مختصرا بقصة الصلاة، ولقوله: "ولو عاش كان صديقا نبيا" انظر: 12358
الحكم: إسناده حسن، م: 708 مختصرا بقصة الصلاة، ولقوله: "ولو عاش كان صديقا نبيا" انظر: 12358
حدیث نمبر: 13986 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: بَلَغَكَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا حِلْفَ فِي الإسلام؟ قَالَ: فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى، بَلَى، قَدْ" حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کیا آپ کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں کوئی مخصوص معاہدہ نہیں ہے، اس پر وہ غصے میں آگئے اور فرمایا کیوں نہیں، کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2294، م: 2529
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2294، م: 2529
حدیث نمبر: 13987 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13988 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَنْ أَنَسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13988]
حکم دارالسلام
إسناد حديث أنس صحيح، وأما حديث الحسن فمرسل
الحكم: إسناد حديث أنس صحيح، وأما حديث الحسن فمرسل
حدیث نمبر: 13989 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ :" أَنّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِامْرَأَةٍ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا لِيَقْتُلَهُ"، فَوَجَدَهُ فِي رَكِيَّةٍ يَتَبَرَّدُ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ: نَاوِلْنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَهُ يَدَهُ، فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ، مَا لَه مِنْ ذَكَرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص پر ایک عورت کے ساتھ بدکاری کا الزام لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ جا کر اسے قتل کردیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو وہ ایک کنویں میں اتر کر ٹھنڈک حاصل کر رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ مجھے پکڑاؤ، اس نے اپنا ہاتھ پکڑایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ تو مفلوج الذکر ہے، اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2771
الحكم: إسناده صحيح، م: 2771
حدیث نمبر: 13990 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي: أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ: عُمَرُ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: فِي أَمْرِ اللَّهِ: عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً: عُثْمَانُ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13991 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَيَّ رِجَالٌ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ رُفِعُوا إِلَيَّ فَاخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا " وہ میرے سامنے پیش ہوں گے " تو انہیں اچک لیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی، ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6582، م: 2304
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6582، م: 2304
حدیث نمبر: 13992 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5832، م: 2073
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5832، م: 2073
حدیث نمبر: 13993 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1059
حدیث نمبر: 13994 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680
حدیث نمبر: 13995 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ"، قَالَ أَنَسٌ: وَأَنَا أُضَحِّي بِهِمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور میں بھی یہی کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5553
حدیث نمبر: 13996 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، وَمَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ الْأَوَّلُ: وَجَبَتْ، وَقَوْلُكَ الْآخَرُ: وَجَبَتْ. قَالَ:" أَمَّا الْأَوَّلُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقُلْتُ: وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقُلْتُ: وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کردو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کردو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13997 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُجَوِّزُهَا وَيُكْمِلُهَا"، يَعْنِي: يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13997]
حکم دارالسلام
اسناده صحيح، خ: 706، م: 469
الحكم: اسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 13998 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کرلیا، ثابت نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کیا مہر دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا اور ان سے نکاح کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4201، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4201، م: 1365
حدیث نمبر: 13999 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ، أَوْ: الْخَبَائِثِ"، قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 142، م: 375
الحكم: إسناده صحيح، خ: 142، م: 375
حدیث نمبر: 14000 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيكَ، وَكَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
الحكم: إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
حدیث نمبر: 14001 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَكُنَّا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُهُ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشَرَةَ أَيَّامٍ، قُلْتُ: فَبِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہتے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کس چیز کا باندھا تھا؟ انہوں نے فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693، 1251
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693، 1251