عَفَّانُ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: بَلَغَكَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا حِلْفَ فِي الإسلام؟ قَالَ: فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى، بَلَى، قَدْ" حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کیا آپ کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں کوئی مخصوص معاہدہ نہیں ہے، اس پر وہ غصے میں آگئے اور فرمایا کیوں نہیں، کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2294، م: 2529
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2294، م: 2529