بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 95 از 109
حدیث نمبر: 13822 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَجَّاجٍ الْأَحْوَلِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، حَجَّاجًا الْأَحْوَلَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا يَعْنِي، فَلْيُصَلِّهَا"، قَالَ: فَلَقِيتُ حَجَّاجًا الْأَحْوَلَ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
حدیث نمبر: 13823 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، وَحَمَّادٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا دَخَلَ عَلَى الْمَرِيضِ، قَالَ: أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو اس کے لئے دعاء فرماتے کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13823]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة حميد صحيح، ومن جهة حماد حسن، خ: 5742
الحكم: إسناده من جهة حميد صحيح، ومن جهة حماد حسن، خ: 5742
حدیث نمبر: 13824 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ"، قَالَ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: قَالَ: وَلَكِنْ الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ:" رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے، اس لئے اب میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہ ہوگا، لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا البتہ " مبشرات " باقی ہیں، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب، جو اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13825 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، وَكَأَنَّ ظُبَةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ صَاحِبَ الْكَتِيبَةِ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقْتَلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو بٹھا رکھا ہے اور گویا میری تلوار کا دستہ ٹوٹ گیا ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ میں مشرکین کے علم بردار کو قتل کروں گا (اور میرے اہل بیت میں سے بھی ایک آدمی شہید ہوگا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین کے علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ کو قتل کیا اور ادھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13825]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 13826 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" يَا خَالُ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: خَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ قَالَ: بَلْ خَالٌ، قَالَ: وَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، ماموں لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13827 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: اكْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، فَقَالَ: اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ، وَاسْمَ أَبِيكَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبْ: مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَكْتُبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلح نامہ تیار کیا، ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو، اس پر سہیل کہنے لگا کہ ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہیں جانتے، آپ باسمک اللھم لکھوائیے جو ہم بھی جانتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے، سہیل کہنے لگا اگر ہم آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتے تو آپ کی اتباع کرتے، آپ اپنا اور اپنے والد صاحب کا نام لکھوائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد بن عبداللہ کی جانب سے " اس صلح نامہ میں مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ شرط بھی ٹھہرائی تھی کہ آپ کا جو آدمی ہمارے پاس آجائے گا، ہم اسے واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن ہم میں سے جو آدمی آپ کے پاس آئے گا، آپ اسے ہمیں لوٹا دیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں؟ فرمایا ہاں! ہم میں سے جو ان کے پاس جائے، اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1784
الحكم: إسناده صحيح، م: 1784
حدیث نمبر: 13828 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ، قَالَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13829 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ؟ فَقِيلَ: الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملیحان تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13830 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَقَالَ: مَا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي، حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13830]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 13831 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ بْنُ خَالِدٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ بْنُ خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِهِ سَبَّحَ، وَكَبَّرَ، حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلُّوا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِيْنَةِ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعتوں کے ساتھ ادا کی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت کے ساتھ پڑھی، رات وہیں پر قیام فرمایا اور نماز فجر پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور راستے میں تسبیح وتکبیر پڑھتے رہے، جب مقام بیداء میں پہنچے تو ظہر اور عصر کو اکٹھے ادا کیا، جب ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو احرام کھول لینے کا حکم دیا، آٹھ ذی الحجہ کو انہوں نے دوبارہ حج کا احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ کھڑے کھڑے ذبح کئے اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13831]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1551
حدیث نمبر: 13832 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ لِلْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِي حَاجَةٌ، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ، أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى، وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 642، م: 376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 642، م: 376
حدیث نمبر: 13833 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 148
الحكم: إسناده صحيح، م: 148
حدیث نمبر: 13834 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ:" فِي النَّارِ"، قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم میں، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو فرمایا کہ میرا اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 203
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 203
حدیث نمبر: 13835 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَرْحُومٌ ، ثَابِتًا ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا ، يَقُولُ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ جَالِسًا وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ أَنَسٌ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ: مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا! فَقَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ،" رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں ان کی ایک صاحبزادی بھی موجود تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کہنے لگی کہ اس عورت میں شرم و حیاء کتنی کم تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ تجھ سے بہتر تھی، اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف رغبت ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5120
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5120
حدیث نمبر: 13836 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13836]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359
حدیث نمبر: 13837 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13837]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13838 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اسْتَوُوا، اسْتَوُوا، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي، كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 13839 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، بَهْزٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ، قَالَ بَهْزٌ: فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ: الْجَهَنَّمِيِّونَ"، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ، يَقُولُ:" عُوقِبُوا بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا"، قَالَ هَمَّامٌ: لَا أَدْرِي فِي الرِّوَايَةِ هُوَ، أَوْ كَانَ يَقُولُهُ قَتَادَةُ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7450
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 13840 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ: أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ؟ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سَمَّوْا الْيَهُودِيَّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، قَالَ: فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ" فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13840]
حدیث نمبر: 13841 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ"، قَالَ بَهْزٌ: إِنَّ" لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرًا يَضْرِبُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5903، م: 2338
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5903، م: 2338