بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13827
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13827
حدیث نمبر: 13827 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ" قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: اكْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، فَقَالَ: اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ، وَاسْمَ أَبِيكَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبْ: مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَكْتُبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلح نامہ تیار کیا، ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو، اس پر سہیل کہنے لگا کہ ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہیں جانتے، آپ باسمک اللھم لکھوائیے جو ہم بھی جانتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے، سہیل کہنے لگا اگر ہم آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتے تو آپ کی اتباع کرتے، آپ اپنا اور اپنے والد صاحب کا نام لکھوائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد بن عبداللہ کی جانب سے " اس صلح نامہ میں مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ شرط بھی ٹھہرائی تھی کہ آپ کا جو آدمی ہمارے پاس آجائے گا، ہم اسے واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن ہم میں سے جو آدمی آپ کے پاس آئے گا، آپ اسے ہمیں لوٹا دیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں؟ فرمایا ہاں! ہم میں سے جو ان کے پاس جائے، اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1784
الحكم: إسناده صحيح، م: 1784
← پچھلی حدیث (13826) باب پر واپس اگلی حدیث (13828) →