عَفَّانُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ، قَالَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13828]
الحكم: إسناده صحيح