عَفَّانُ ، مَرْحُومٌ ، ثَابِتًا ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا ، يَقُولُ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ جَالِسًا وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ أَنَسٌ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ: مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا! فَقَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ،" رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں ان کی ایک صاحبزادی بھی موجود تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کہنے لگی کہ اس عورت میں شرم و حیاء کتنی کم تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ تجھ سے بہتر تھی، اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف رغبت ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5120
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5120